خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 48

خطبات محمود ۴۸ سال 1927ء تھا کہ خدا تعالٰی ضرور اس دعا کو سنتا ہے اور قرآنی علوم ان پر منکشف کرتا ہے۔میں نے اپنی ذات میں بھی دیکھا ہے کہ میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل قرآن شریف اور بخاری پڑھا کرتا تھا تو آپ نے آدھا آدھا سیپارہ روز پڑھا کر دوماہ میں سب ختم کرا دیا۔میں جب کچھ پوچھنا چاہتا تو فرماتے۔میاں گھر جا کر سوچ لینا۔دوسرے پڑھنے والوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے اگر میں کوئی سوال کرتا تو فرماتے۔میاں اٹھو ادھر آکر بیٹھو۔غرض اس طرح پڑھانے کے بعد فرمایا جو علم نور دین کو آتا تھا وہ پڑھا دیا۔اس کے اندر ایک نکتہ تھا اور وہ یہ کہ ایک مسلمان کے لئے صرف اتنا ضروری ہے کہ وہ ترجمہ پڑھ لے اور اس کو اچھی طرح سمجھ لے۔باقی جو علوم ہیں وہ تو خدا کے سکھائے آتے ہیں۔ان کے متعلق اسے اپنے طور پر کوشش کرنی چاہئے اور خدا تعالیٰ سے حاصل کرنے چاہئیں میں اگر حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کی بتائی ہوئی باتوں کو ہی لکھ رکھتا تو آج ان اعتراضوں کے جواب کہاں سے لاتا۔جو اسلام پر ہو رہے ہیں۔کیا انہوں نے ہمیشہ زندہ رہنا تھا ؟ نہیں۔اس لئے انہوں نے وہ گر مجھے بتا دیا جو ان کے بعد میرے کام آنے والا تھا۔اور اب میں وہ گر تمہیں بتاتا ہوں کہ اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا کے وقت اس کے مطالب مد نظر رکھنے بہت زیادہ مفید ہیں۔اس طرح خدا تعالیٰ ہر ایک بات خود بتاتا اور سمجھاتا ہے۔اور تمام علوم کا انکشاف کر دیتا ہے۔حضرت خلیفة المسیح الاوّل کے بتائے ہوئے گر سے میں نے بہت بڑے بڑے فائدے حاصل کئے ہیں۔میں اکثر دعائیں کرتا رہتا ہوں کہ مجھے اور زیادہ علوم عطا ہوں اور زیادہ انعام ملیں۔اور زیادہ نعمتیں اور برکتیں حاصل ہوں۔چنانچہ مجھے خدا تعالیٰ کے فضل کے ماتحت دی بھی گئیں ایک دفعہ رویا ء میں مجھے بتایا گیا۔میں نے دیکھا ایک آواز سن رہا ہوں۔جیسے ٹن کی آواز ہوتی ہے تانبے یا پیتل کے برتن سے جو آواز نکلتی ہے۔ویسی ہی وہ آواز تھی وہ آواز ہوتے ہوتے اس قدر وسیع ہوئی کہ وسیع ہو کر ایک لمبا چوڑا میدان بن گئی۔تب فرشتہ نے میرے پاس آکر کہا۔کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں سورہ فاتحہ کا ترجمہ سکھایا جائے۔میں نے کہا۔ہاں۔تب اس نے مجھے سکھایا۔اور جب ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پر پہنچا۔تو کہنے لگا۔کہ تفسیروں والے تو یہیں تک لکھتے ہیں۔اور لوگ یہیں تک بیان کرتے ہیں۔لیکن میں تمہیں اگلی تفسیر سکھاتا ہوں۔اور مجھے اس نے اس کی تفسیر سکھائی۔پھر میری آنکھ کھل گئی۔میں نے یہ رویا حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کو منائی۔اور کہا۔تفسیر جو فرشتہ نے سکھائی تھی۔وہ بھول گئی ہے۔آپ نے فرمایا۔یہ آپ کو علم سکھایا گیا ہے اور