خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 527

خطبات محمود ۵۲۷ سال ۱۹۲۸ء توجہ کریں گے۔یہ بھی غلطی ہوئی ہے کہ ان دنوں میں ٹورنامنٹ شروع کر دیا گیا ہے یہ دن ٹورنامنٹ کے لئے موزوں نہیں۔ان ایام میں ساری توجہ جلسہ کی طرف ہونی چاہئے تھی۔اور یہ طریق بھی غلط ہے کہ ہر کام میں سارا حصہ ناظر ہی لیں۔اس سے دوسرے لوگوں میں کام کرنے کی عادت جاتی رہتی ہے۔وہ سمجھتے ہیں جو کام کریں گے ناظر ہی کریں گے۔دوسرے لوگوں کو بھی کاموں میں حصہ لینے کا موقع دینا چاہئے۔سوائے اہم اور ضروری کاموں کے ناظروں کو حصہ لینا ہی نہیں چاہئے۔میں اس کے متعلق پہلے بھی بیان کر چکا ہوں اگر ان کو کھیلنا ہو تو جاکر کھیلیں اور اس طرح ثابت کریں کہ وہ ماتحتی بھی کر سکتے ہیں صرف افسری کرنا ہی نہیں جانتے۔یہ سخت بے اصولا پن ہے ناظر بیت المال کو ٹورنامنٹ کا سیکرٹری بنا دیا گیا وہ کچھ دن ٹورنامنٹ سے قبل اور کچھ دن بعد رپورٹ وغیرہ مرتب کرنے کے لئے کسی اور کام کی طرف توجہ نہیں دے سکے گا اور یہی وجہ ہے کہ جلسہ کی تحریک پوری طرح نہیں ہو سکی حالا نکہ کوئی مدرس یا اور آدمی ٹورنامنٹ کا سیکرٹری بنایا جا سکتا تھا۔ناظروں کو اگر ضرورت ہوتی تو کھیل وغیرہ میں شامل ہو جاتے یا دیکھ لیتے۔غرض مقامی کام مقامی لوگوں کے سپرد ہونے چاہئیں تا دو سرے کام کرنے والوں کا وقت ضائع نہ ہو۔امید ہے کہ آئندہ ناظر صاحبان مقامی کاموں میں دخل نہیں دیں گے۔وہ بے شک کھیلیوں میں شریک ہوں تا صحت نہ خراب ہو۔رسول کریم ﷺ صحت کا خاص خیال رکھتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے مسجد میں جیشیوں کا کھیل دیکھا۔ا گویا اس کو اتنا اہم کام سمجھا کہ مسجد میں کرا لیا۔اگر ہم اس قسم کا کوئی کام کرا ئیں تو شور مچ جائے اور شاید احمدی بھی شور مچا دیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔حضرت خلیفہ اول کے وقت میں نہیں ہوتا تھا یہ بھی بدعت شروع ہو گئی۔مگر رسول کریم نے ایسا کرنے کی اجازت دی۔مسلمانوں نے آخر دنیا میں کام کرنے تھے اگر صحت کا خیال نہ رکھتے تو کام کس طرح کرتے۔ایک مرتبہ تیر اندازی کا مقابلہ ہو رہا تھا رسول کریم بھی جاکر ایک پارٹی میں شامل ہو گئے لیکن دوسرے فریق نے اس لئے تیر پھینکنے سے انکار کر دیا کہ ہم رسول کریم ﷺ کے مقابلہ میں کس طرح تیر چلا ئیں اس پر آپ علیحدہ ہو گئے۔تو کھیلوں میں حصہ لینا ناجائز نہیں صرف انتظامی امور میں ناظروں کو دخل نہیں دینا چاہئے۔کھیل کے لحاظ سے اس کی اہمیت میں نہیں گراتا۔میں نے خود ٹورنامنٹ جاری کرایا تھا۔قوم میں ولولہ اور امنگ اور آثار زندگی پیدا کرنے کے لئے میرے خیال میں یہ نہایت ضروری