خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 47

سال 1927ء ۴۷ خطبات محمود اس کے وہ معارف کھولکر بتائے کہ لوگ حیران رہ گئے۔ اور فرمایا کہ پانچ آیتیں چھوڑ پانچ شوشے بھی قرآن کریم سے منسوخ نہیں۔ کجا ولی اللہ شاہ صاحب کہ پانچ آیتیں منسوخ سمجھتے تھے اور کجا ایک احمدی کہ وہ اب ایک آیت کو بھی منسوخ نہیں سمجھتا۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی ثابت کر دکھایا ہے۔ کہ اس کی ترتیب عبارت بھی بہت اعلیٰ ہے۔ اور اس لحاظ سے بھی یہ ایک بے مثل کتاب ہے چنانچہ ہم میں سے علوم کا مطالعہ کرنے والے آج کہتے ہیں کہ اس کی عبارت بے جوڑ نہیں ۔ بلکہ نہایت اعلیٰ اور مکمل ترتیب کے ساتھ ہے۔ اور اس میں اتنا رشتہ ہے کہ دنیا کی کسی کتاب میں اتنا رشتہ نہیں پایا جاتا۔ لوگ سمجھا کرتے تھے کہ یہ تعزیرات ہند کی طرح ایک کتاب ہے اور بس۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا یہ بالکل فطرت انسانی کے مطابق کتاب ہے ۔ ہر ایک حکم جو اس میں ہے اور ہر ایک عقیدہ جو اس کے ذریعے پیدا کیا گیا ہے اس کے لئے دلائل عقلی اور نقلی دونوں اس میں موجود ہیں۔ اور بتا دیا کہ اگر کوئی کتاب ایسی ہے کہ دنیا اس پر عمل کر سکتی ہے۔ اور وہ دنیا کے لئے مفید ہو سکتی ہے تو وہ قرآن کریم ہے۔ پھر ہزاروں روپیہ انعام مقرر کیا کہ کوئی ایسی کتاب پیش کرو۔ بلکہ چند ان مضامین کے مقابلہ کے لئے بھی لوگوں کو بلایا جو آپ نے قرآن کریم کے حقائق کے متعلق لکھے اور جن کے متعلق آپ نے بڑے زور کے ساتھ دعوی کیا کہ اگر زیادہ نہیں تو ان کے برابر ہی معارف دکھا رو اور انعام لے لو ۔ مگر لوگ نہ کر سکے ۔ ۔ پس یہ فرق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دوسرے لوگوں کے درمیان ہے۔ لیکن یہ فرق کیوں ہے ؟ اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہتے تو وہ یقینا یہ دعا مانگ رہے ہوتے تھے۔ کہ مجھ پر قرآنی علم پہلے سے زیادہ کھولے جائیں۔ اگر محمد ال پر حقائق کھولے گئے اور علوم عطا کئے گئے ۔ اگر موسیٰ پر حقائق کھولے گئے اور علوم عطا کئے گئے ۔ اگر عیسی ابراہیم اور نوح علیہم السلام پر حقائق کا انکشاف کیا گیا اور ان کو علوم عطا کئے گئے تو ہم پر بھی ان حقائق کو واضح فرمادیا جائے اور ہم پر بھی ان علوم کو کھولا جائے۔ حضرت خلیفہ البیع الاول کا بھی یہی طریق تھا۔ آپ فرمایا کرتے۔ کوئی اعتراض قرآن پر کرے۔ میں جواب دینے کے لئے تیار ہوں۔ اگر مجھے جو اب معلوم نہ بھی ہو گا تو بھی خدا تعالیٰ کا مجھ سے وعدہ ہے کہ میں سمجھا دوں گا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ آپ بھی جب اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہتے تھے تو اسی مفہوم کو مد نظر رکھ کر کہتے تھے کہ قرآن کے علوم مجھ پر کھولے جائیں۔ اور انہیں یہ یقین