خطبات محمود (جلد 11) — Page 501
خطبات محمود ۵۰۱ سال ۶۱۹۲۸ مبائین نے ہمارے راستہ میں جو روکیں ڈالی ہیں ان کا مجھ پر یہ اثر پڑا ہے کہ میں ایک سو رو پید اپنے پاس سے دینے کے لئے تیار ہوں۔ایک ہزار احمدی اپنے ہوں جو ایک ایک سو روپیہ دیں اور اس طرح ایک لاکھ روپیہ جمع کر کے پیغامی فتنہ کو دور کرنے پر صرف کیا جائے۔اس خط کو پڑھ کر مجھے جنگ بدر کا وہ نظارہ یاد آگیا جس کے متعلق عبد الرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ اس موقع پر میں اپنے دائیں بائیں پندرہ پندرہ سالہ چھو کرے دیکھ کر افسوس کر رہا تھا کہ آج میں کیا لڑوں گا جب کہ میرے بازو اس قدر کمزور ہیں۔میں اسی خیال میں تھا کہ ایک طرف سے ایک لڑکے نے مجھے کہنی مار کر پوچھا۔چچا وہ ابو جہل کون ہے جو رسول کریم کو دکھ دیا کرتا تھا میرا جی چاہتا ہے میں اسے قتل کروں۔میں اسے جواب نہ دینے پایا تھا دوسرے نے کہنی مار کر کہا مجھے ابو جہل تو دکھائیے میں اس پر حملہ کرنا چاہتا ہوں۔عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں میں ان کے سوال سن کر سخت شرمندہ ہوا۔کیونکہ میرے دل میں بھی اس وقت یہ نہ آیا تھا کہ ابو جہل کو جو لشکر کفار کا کمانڈر انچیف تھا میں قتل کر سکوں گامگران بچوں کا یہ حوصلہ تھا کہ ابو جہل سے نچلے درجہ والے کو قتل کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔سے طالب علم نے جو خط لکھا ہے یہ بھی بہت بڑے اخلاص کی علامت ہے۔ایک طالب علم کی کیا بساط ہے کہ سو روپیہ چندہ میں دے۔وہ اپنے آپ کو سخت تنگی میں ڈال لے اپنے کھانے اور کپڑے اور دوسری ضروریات کو بالکل کم کر دے تب ایک عرصہ میں سو روپیہ جمع کر سکتا ہے۔پھر وہ کسی امیر کا لڑکا نہیں کہ اسے بہت کافی اخراجات ملتے ہیں میں جانتا ہوں معمولی گھرانہ کا لڑکا ہے۔مگر اس کا خط بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کے بچوں تک کو کیسا اخلاص بخشا ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالٰی ہماری سب جماعت کو ایسا ہی اخلاص بخشے اور اس اخلاص کے ساتھ اعمال کی بھی توفیق دے۔آمین بخاری کتاب الجھاد باب ان اللہ لیؤید الدین بالرجل الفاجر - مسلم کتاب الایمان باب تحریم قتل الکافر بعد ان قال لا الہ الا اللہ بخاری کتاب المغازی باب فضل من شهد بدرا الفضل ۲۳ / اکتوبر ۱۹۲۸ء)