خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 496

خطبات محمود ۴۹۶ سال ۶۱۹۲۸ کہ جب ترکی اور بلغاریہ کی جنگ ہوئی اور جب تک ترک ہارتے رہے یورپین سلطنتیں کہتی رہیں ہم ان میں دخل نہیں دیتیں لیکن جب ترکی فوجیں بڑھنے لگیں اور بلغاریہ شکست کھانے لگا تو معا ان سلطنتوں کی فوجیں آگئیں اور انہوں نے کہہ دیا ہم لڑنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اب لڑائی بہت وسعت اختیار کرتی جاتی ہے۔ اسی طرح جب یونان اور ترکی کی جنگ ہوئی تب بھی یہی کہا گیا۔ جب تک خیال رہا کہ یونان ترکی کے مقابلہ میں خوب جنگ کر سکتا ہے تو کہا گیا ترکوں کو کم از کم چھ ماہ یونان کے پہلے قلعہ کے فتح کرنے میں لگیں گے لیکن جب چند دن کے اندر اندر ترکی فوجیں یونان میں گھنے لگیں تو معا یہ کہہ کر دخل دے دیا کہ ہم لڑائی بڑھانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اسی طرح غیر مبالغین نے کیا ہے۔ ان کی یہ صلح صلح نہ تھی اور یہ اخلاق اخلاق نہ تھے یہ محض اس ڈر کے مارے تھا کہ اب حملہ ان پر ہوا ہے۔ لیکن بہر حال کسی نیست سے ہو۔ ہم یہ اس لئے کہتے ہیں کہ ان کے اعلان کے بعد کئی جگہوں سے خطوط آئے ہیں کہ ان لوگوں نے زبانی حملے بڑے زور سے شروع کر رکھے ہیں جو مجالس میں کرتے ہیں اس سے میں سمجھتا ہوں ان کا یہ اعلان بناوٹی بناء ہے ۔ مگر باوجود اس اس کے میں اعلان کرنے والے پر بناوٹ کا الزام نہیں لگاتا کیونکہ رسول کریم ﷺ نے ایسے موقع کے متعلق فرمایا ہے کیا تم نے دل پھاڑ کر دیکھ لیا ہے۔ ۲ میں نے چونکہ دل پھاڑ کر نہیں دیکھا اس لئے اس کے متعلق کچھ نہیں کہتا۔ اگر یہ اعلان ایک فرد کی طرف سے ہے تو میں اسے قبول کرتا ہوں لیکن اگر یہ اس گروہ کی طرف سے ہے تو کہوں گا کہ وہ لوگ اس پر نہیں چل رہے۔ بہر حال چونکہ یہ اعلان ایک ذمہ دار شخصیت کی طرف سے ہوا ہے اس لئے میں اپنے اخبارات سے کہتا ہوں کہ وہ بھی ذاتیات کے متعلق لکھنا چھوڑ دیں۔ کیونکہ خدا تعالٰی فرماتا ہے۔ وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (الانفال (۶۲) جب تک وہ پھر یہ طریق اختیار نہ کریں ہمیں بھی اس پہلو کو چھوڑ دینا چاہئے ۔ ہاں جس طرح افراد میں زبانی طور پر وہ ابھی تک الزام لگاتے اور ایسی باتیں پھیلاتے ہیں ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی اجازت ہے کہ وہ بھی زبانی باتیں بیان کریں۔ اسی طرح مذہبی مسائل میں غیر احمدیوں کو ہمارے خلاف اکسانے اور اشتعال دلانے کا جو طریق انہوں نے اختیار کر رکھا ہے اور اب اپنا سارا زور اس پر صرف کر رہے ہیں ہمیں بھی اس پہلو سے ان کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ میں اس سے نہیں روکتا بلکہ اسے جاری رکھنے کے لئے کہتا ہوں تاکہ ان لوگوں کو یہ بھی معلوم ہو جائے کہ مذہب کی غرض کسی