خطبات محمود (جلد 11) — Page 487
۴۸۷ سال ۶۱۹۲۸ علی امام اور مسٹر شعیب قریشی شامل تھے۔سر علی امام تو بوجہ بیماری صرف ایک ہی مجلس میں شریک ہو سکے اور شعیب قریشی صاحب کا بیان ہے کہ ان کی باتوں کی کوئی پروا ہی نہیں کی جاتی تھی۔اس میں ایسی تجاویز کی گئی ہیں کہ اگر مسلمان انھیں منظور کر لیں تو ان کی ہلاکت یقینی ہے۔جو حالت ان کی پین میں ہوئی تھی وہی یہاں بھی ہو سکتی ہے اور اگر انہوں نے ان تجاویز کو مان لیا تو ہو کر رہے گی۔چونکہ کوئی مذہبی سلسلہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ ایسے گر دو پیش میں نہ ہو جس میں ترقی کا امکان ہو اور چونکہ ان تجاویز پر عمل کرنے سے مسلمانوں کی ترقی کے جملہ راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور اس کا ہماری جماعت پر بھی برا اثر پڑتا ہے اس لئے جماعت احمدیہ کا فرض ہے کہ مسلمانوں کو اس کے متعلق سمجھائے اور آنے والے خطرات سے آگاہ کرے۔گورنمنٹ بھی اونچی آواز سے ہی زیادہ ڈرتی ہے۔ان کے ہاں چونکہ طرز حکومت ہی پارلیمنٹری ہے جس کے معنی ہی ملک کی آواز کے ہیں اور چونکہ ان کے ہاں طریق ہی یہ ہے کہ کثرت کی بات کو مان لینا اور قدرتی بات ہے کہ جتنا زیادہ شور مچایا جائے لوگ سمجھتے ہیں کہ اکثریت اس طرف ہے۔پس اگر ہماری جماعت نے دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اس کے متعلق کوشش نہ کی تو گورنمنٹ حامیان رپورٹ کو کثرت خیال کر کے اس کی بہت سی باتوں کو تسلیم کرلے گی اور یہ اسلام کی ترقی کے راستہ میں ایک خطرناک روک ہوگی۔میں نے اس رپورٹ کو بغور پڑھا ہے۔اس میں صاف ایسی باتیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بنانے والوں کی نیت نیک نہیں اور ابھی ان کے ذہن میں ایسی باتیں اور تجاویز ہیں جن سے اسلام کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔گو ان میں سے بعض دیانت دار ہیں لیکن دیانت بھی تعصب کے پردہ میں چھپ جاتی ہے۔میں ان کی دیانت پر حملہ نہیں کرتا لیکن باوجود اس کے میں کہتا ہوں کہ ان کے دل و دماغ پر تعصب کا پردہ پڑا ہوا ہے اس لئے وہ ان مضرت رساں باتوں کو جو ملک کے اتحاد کے لئے خطرناک ہیں کر گذرنے پر تیار ہیں۔پس میں اس خطبہ کے ذریعہ جماعت کے دوستوں کو سوائے ان دوستوں کے جو گورنمنٹ کے ملازم ہیں کیونکہ ملازمین سرکار کا سیاسی معاملات میں حصہ لینا نا جائز ہے توجہ دلاتا ہوں کہ جس طرح راجپال کے مقدمہ کے وقت انہوں نے دوسرے لوگوں سے مل کر کمیٹیاں بنائی تھیں اسی طرح اب بھی ہر شہر اور ہر قصبہ بلکہ ہر گاؤں میں دوسرے لوگوں سے ملکر جلد سے جلد ایسی کمیٹیاں بنائیں جو نہرو کمیٹی کے خلاف جلسے کر کے لوگوں کو اس کی پیش کردہ تجاویز کے