خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 466

خطبات م سال ۱۹۲۸ء کے آنے سے لوگوں کے دل پھر امیدوں اور امنگوں سے بھر جاتے ہیں اور سرسبز ہو جاتے ہیں۔پس ان مایوس لوگوں کو ہوشیار کرنے کے لئے سخت جدوجہد اور کوشش کی ضرورت ہے۔لوگ خود کشی بھی مایوسی کی وجہ سے ہی کرتے ہیں اور موجودہ زمانہ میں مذہب سے بعد اور دوری بھی دراصل خود کشی ہے۔پس دنیا خود کشی کر رہی ہے لیکن ہمارے دوست سوئے پڑے ہیں۔بے شک یہ خدا تعالی کی سنت ہے کہ گمراہ لوگ فورا نہیں مان جایا کرتے لیکن جب دنیا کی ترقی اسی پیغام سے وابستہ ہے تو آج نہیں کل کل نہیں پرسوں، آخر دنیا اس طرف آئے گی۔میں دیکھتا ہوں کہ تبلیغ کی بھی ایک رکو ہماری جماعت میں چلتی ہے۔بعض دنوں میں تو چاروں طرف سے خبریں آتی ہیں کہ فلاں جگہ اس طرح تبلیغ کی گئی اور اتنے لوگ سلسلہ میں داخل ہوئے۔لیکن کبھی بالکل خاموشی چھا جاتی ہے حالانکہ جو کام استقلال اور مداومت سے کیا جائے اس کے نتائج بہ مقابل اس کے جو وقفہ کے بعد کیا جائے بہت اعلیٰ اور شاندار ہوتے ہیں۔پس متواتر تبلیغ کرنی چاہئے۔کسی ڈاکٹر سے پوچھو اگر استقلال سے علاج نہ کیا جائے تو بیمار کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے ؟ بسا اوقات مہینہ ڈیڑھ مہینہ کا علاج دوائی کے ایک ناغہ سے بے سود ہو جاتا ہے اور تمام محنت رائگاں چلی جاتی ہے۔پس استقلال سے کام کرنا چاہئے۔شہروں میں قصبوں میں محلوں میں ہر ایک گلی کوچہ میں اور ہر ایک گھر میں تبلیغ حق پہنچانے کا انتظام کرنا چاہئے۔اب تو خدا تعالیٰ کا فضل ہے ہمیں بہت سی سہولتیں میسر ہیں جو پہلے نہیں تھیں۔پہلے کہا جاتا تھا مرزا صاحب نے آکر کیا کیا مگر اب لوگ اعتراف کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت بڑا کام کیا۔اور آپ کا یہی کام بہت بڑا ہے کہ آپ نے ایک ایسی جماعت پیدا کر دی ہے جو صحیح معنوں میں مسلمانوں کی خدمت کرنے والی ہے یہ ایک ایسی بات ہے جو پہلے ہمیں حاصل نہ تھی۔اب لاکھوں انسان ایسے ہیں جو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے بہت کام کیا۔پھر پہلے یہ بھی مشکل تھی کہ بعض دفعہ ساری قوم بلکہ سارے علاقہ سے ایک ہی احمدی ہوتا تھا اور وہ زور سے تبلیغ نہیں کر سکتا تھا مگر اب یہ حالت ہے کہ بعض علاقوں میں اکثریت احمدیوں کی ہے۔اس وقت اگر ذرا سا بھی زور لگا دیا جائے تو کامیابی بہت آسان ہے۔پس ایسے وقت میں جب اللہ تعالٰی نے ہمارے لئے کامیابی کے راستے کھول دیئے ہیں غفلت کرنا بہت خطرناک ہے۔میں دیکھتا ہوں قادیان والوں کو بھی دورہ ہوتا ہے بعض اوقات تو سنتے ہیں کہ فلاں آدمی