خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 463

خطبات محمود ۶۳ سوم سال ۱۹۲۸ء 4۔استقلال سے تبلیغ کرو فرموده ۱۴ ستمبر ۱۹۲۸ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم سے ہمیں وہ چیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ملی ہے جس کا نام صراط مستقیم ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صراط مستقیم ہر اس طریق اور راستہ کو کہتے ہیں جس سے انسان ایک منزل مقصود پر پہنچے جس کے ذریعہ انسان خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکے اور جس کے ذریعہ وہ ہلاکت اور تباہی سے بچ سکے لیکن حقیقی اور کامل صراط مستقیم وہی ہے جو انسان کو خدا تعالٰی تک پہنچائے باقی جتنی چیزیں ہیں وہ اسباب اور ذرائع ہیں۔اگر کسی کو اعلیٰ اخلاق کی توفیق ملے تو اس کے لئے خدا تعالی تک پہنچنے کے لئے ایک دروازہ کھل گیا۔اسی طرح عبادت بھی ایک ذریعہ ہے اور اگر کسی کو اس کی توفیق ملے تو اسے خدا تعالی تک پہنچنے کا ایک ذریعہ حاصل ہو گیا۔یہ چیزیں اپنی ذات میں مقصود نہیں ہیں۔اسی طرح شفقت على الناس بھی اپنی ذات میں مقصود نہیں جس طرح کہ انسان کی اس دنیا کی زندگی اپنی ذات میں مقصود نہیں۔اور جب انسان کی زندگی مقصود بالذات نہیں تو اس کی زندگی کے سامان کس طرح مقصود بالذات ہو سکتے ہیں۔پس شفقت علی الناس بھی مقصود نہیں بلکہ خدا تعالی کی تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے۔اسی طرح سب قسم کی کامیابیاں، علم کا حصول، عقل، تجربہ اور اموال کا حصول، عزت و مراتب یہ سب چیزیں اپنی ذات میں مقصود نہیں۔یہ یا تو اعمال کے نتائج ہیں یا پھر اصل مقصود کے ذرائع ہیں مقصود بالذات نہیں۔اصل مقصود صرف اللہ کی ہستی ہی ہے اور اس کا قرب اور اس کی رضا حاصل کرنا انسان کی اصل غرض ہے۔پس مومن جب اهْدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِيمَ کہتا ہے تو یہی دعا کرتا ہے کہ خدا کے قرب کے ذرائع اسے معلوم