خطبات محمود (جلد 11) — Page 461
خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء اسے بھلاتی ہے تو وہ اسے بلاتا ہے اگر واقعہ میں قرآن کریم موجودہ مفاسد کا تسلی بخش علاج نہ ہوتا تو خدا تعالٰی ضرور کوئی دوسرا ہدایت نامہ بھیج دیتا۔تمام دنیا کی نظریں ایک مامور کی آمد پر لگی ہوئی تھیں۔وہ آیا اور چلا بھی گیا۔اس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے اور وہ یہ کہ قرآن کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدل نہیں سکتا۔اس کی آمد سے قبل یہ خیال ہو سکتا تھا کہ شاید وہ کوئی اور " ہدایت نامہ لے آئے لیکن اس کے بعد یہ خیال نہیں ہو سکتا۔پس قرآن کریم ہی سب ہدایات کا مجموعہ ہے اور جملہ بیماریوں کا علاج ہے۔اب اور کسی کتاب کا خیال مجنونانہ خیال ہے۔یہی کتاب ہے جس سے دنیا کے مفاسد کا علاج کیا جا سکتا ہے۔یہ خدا تعالی کا فیصلہ ہے اور یہی سچا فیصلہ ہے۔رسول کریم کے متعلق ایک روایت ہے معلوم نہیں کہاں تک سچ ہے مگر اس سے ہمیں ایک سبق ضرور ملتا ہے۔لکھا ہے ایک صحابی آپ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے بھائی کے پیٹ میں سخت درد ہے۔آپ نے فرمایا جا اسے شہد پلا۔وہ گیا اور پھر آکر یہی عرض کیا یا رسول اللہ پلایا تھا مگر آرام نہیں ہوا۔آپ نے فرمایا جا پھر شہد پلا۔وہ پھر گیا اور پھر آکر یہی عرض کیا کہ آرام نہیں ہوا۔آپ نے فرمایا اور شہد پلا خد ا یقینا سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیسٹ جھوٹا ہے ؟ خدا تعالیٰ شہد کے متعلق فرماتا ہے۔فِيْهِ شِفَاءُ لِلنَّاسِ (النحل (۷۰) اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ خدا کے فیصلہ کے مقابل میں ہمارا فیصلہ کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔اور یہ خدا کا فیصلہ ہے کہ قرآن ہی تمام مفاسد کا صحیح علاج ہے۔اگر کوئی ناامید ہوتا ہے کہ فلاں قوم نہیں مانتی تو وہ غلطی پر ہے۔اگر کوئی کسی کے متعلق شقاوت کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ بھی غلطی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی جماعت پھیلے گی اور بادشاہ بھی اس میں داخل ہوں گے حتی کہ تمام دنیا اس میں شامل ہو جائے گی اور صرف اکاد کا لوگ چوہڑے چماروں کی طرح الگ رہ جائیں گے۔اس تحریر کے بعد کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ لوگوں پر اثر نہیں ہوتا۔دراصل ہماری طرف سے ہی تبلیغ اور سنانے میں ستی ہے۔پس جن دوستوں نے درس سننے کے لئے تکلیف اٹھائی ہے وہ فائدہ بھی اٹھا ئیں اور عہد کریں کہ پوری تندہی سے تبلیغ میں مصروف ہو جائیں گے۔میں ان سے پوچھتا ہوں اگر کسی شخص سے کہا جائے کہ جرمنی کے لوگوں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہیں اپنا تخت پیش کریں تو اسے کس قدر خوشی ہوگی۔یا اگر کوئی کے امریکہ والوں نے تمہیں اپنا بادشاہ بنانے کی تجویز کی ہے تو