خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 40

خطبات محمود وم سال 1927ء اخد تا البقراط المستقيم کی دعا فرموده ۱۴ مارچ ۱۹۲۷ بمقام مسجد احمدیہ - لاہور) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: مجھے افسوس ہے کہ چونکہ مجھے یہاں سے ایک پاس کے شہر میں جانا پڑا اس لئے جمعہ میں دیر ہو گئی۔اس قلیل وقت میں جس قدر میں بیان کرنا پسند کروں۔اس قدر شائد میرے لئے ممکن نہیں ہو گا۔لیکن بہر حال جمعہ کے موقع پر ان لوگوں کے لئے جو جمعہ کی آواز پر لبیک کہتے ہیں جمعے کے لئے جمع ہوتے ہیں آنحضرت ﷺ کی سنت اور طریق کے مطابق کچھ نہ کچھ کہنا ضروری ہوتا ہے خواہ وہ کہنا کثیر ہو یا قلیل۔بات خواہ تھوڑی ہو یا بہت۔مگر بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو سمجھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ان کے لئے تھوڑی بات بھی بہت ہوا کرتی ہے۔اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نہیں سمجھتے۔ان کے واسطے بہت باتیں بھی تھوڑی ہوا کرتی ہیں۔ایسے لوگ جو متواتر اور مسلسل طور پر باتیں سنتے ہیں۔لیکن پھر بھی ان سے آشنا نہیں ہوتے۔اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرماتا ہے۔ان کے دلوں پر مہر لگی ہوئی ہے۔ان کی آنکھیں ہیں مگروہ دیکھتے نہیں۔ان کے کان ہیں مگر وہ سنتے نہیں۔لیکن ان کے مقابل کچھ اور لوگ ہیں جو تھوڑی سی بات سے فائدہ حاصل کر لیتے ہیں۔ایک معمولی سی بات بھی ان کے قلب پر اثر پیدا کر دیتی ہے۔جس سے وہ خود ہی مست نہیں ہوتے بلکہ قریب والے بھی متوالے ہو جاتے ہیں۔اور دنیا کو انسان کی اس صفت سے جس قدر نفع پہنچا اتنا کسی اور بات سے نہیں ہوا۔حضرت عمر کے متعلق آتا ہے۔کہ ان کے اندر رسول الله ال AT A GRANAT کی مخالفت تھی تو اتنی کہ ہر