خطبات محمود (جلد 11) — Page 445
خطبات محمود ۴۴۵ سال ۱۹۲۸ء سے بہت پہلے آپ کو حق تھا کہ مقابلہ کرتے۔اگر آپ مکہ سے نکلنے کے معابعد مکہ پر حملہ کر دیتے تو یہ آپ کے لئے جائز تھا کیونکہ کفار کے مظالم بہت بڑھ گئے تھے مگر آپ نے لڑائی شروع نہ کی اور اس وقت تک نہ کی جب تک خدا تعالٰی کی طرف سے حکم نہ آگیا کہ لڑائی کا جواب لڑائی سے دو۔غرض بعض امور جائز ہوتے ہیں مگر فطرت ان سے کراہت کرتی ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے مسلمان لڑائی سے کراہت کرتے ہیں حالانکہ دشمن سے لڑنا جائز ہے۔تو ہم جواب دے سکتے تھے اور دے سکتے ہیں اور اگر مجبور کیا گیا تو انشاء اللہ دیں گے لیکن جہاں تک ہو سکے گازاتی واقعات کو بیچ میں لانے سے پر ہیز ہی کریں گے۔بہر حال انہوں نے ان باتوں کو لیا اور لوگوں میں پھیلایا اور مجھے اور جماعت کو بد نام کرنے کی کوشش کی۔میں نے بتایا ہے ہمارے پاس اس کے متعلق غیر احمدی معززین کی تحریریں ہیں اور ممکن ہے کوشش کی جائے تو غیر مبائین کے بعض اپنے خطوط بھی مل جائیں جن کے ذریعہ سے ان باتوں کی اشاعت کی گئی ہو۔خیر انہوں نے یہ طریق جاری رکھا مگر میں نے پھر بھی اپنے اخبارات کو روکے رکھا یہاں تک کہ ۱۷ جون کو جلسوں کے لئے جو تحریک کی گئی تھی اس کی انہوں نے مخالفت شروع کر دی اور اس رنگ میں مخالفت شروع کر دی کہ گویا ہم احمدی خاتم النبین کے منکر ہیں حالانکہ دنیا جانتی ہے ہم منکر نہیں اور ہم رسول کریم ﷺ کو خاتم النبین سمجھتے ہیں اور جب تک ہم رسول کریم ﷺ کو خاتم النبین سمجھتے ہیں کسی کا حق نہیں ہے کہ وہ کسے ہم خاتم ال ان کے منکر ہیں۔کوئی انسان یہ تو کہہ سکتا ہے کہ میں خاتم النبیین کے جو معنی کرتا ہوں وہ صحیح ہیں اور جو تم معنی کرتے ہو غلط ہیں۔وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ جو معنی تم کرتے ہو ان کے رو سے خاتم النبین کا انکار ہو جاتا ہے مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم خاتم النبین کے منکر ہو۔جب ہم کہتے ہیں کہ ہم اس کے قائل ہیں تو پھر اس کا منکر کیونکر کہا جا سکتا ہے۔مگر انہوں نے ہم پر یہ حملہ کیا اور نہ صرف اس تحریک پر برا منایا بلکہ جب جلسے ہو چکے اور نہایت کامیاب جلسے ہوئے تو ان جلسوں کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی حالانکہ غیر احمدیوں اور ہندوؤں تک نے اقرار کیا کہ جلسے بہت کامیاب ہوئے ہیں۔لاہور کے جلسہ کو ہی ان لوگوں نے ناکام بتایا لیکن اسی جلسہ کے متعلق ایک ہندو وکیل لالہ امر ناتھ صاحب چوپڑہ نے اخبار انقلاب (۱۷ / جولائی ۱۹۲۸ء) میں ایک مضمون شائع کرایا جس میں اس جلسہ کی کامیابی کا اعتراف کیا اور لکھا جو تقریریں بانی اسلام کے