خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 444

خطبات محمود مهم مهم لهم سال ۴۱۹۲۸ اشاعت اسلام کے جلسہ پر لاہور آئے ہوئے تھے۔ان میں سے ایک آنریری مجسٹریٹ صاحب نے جن کا مولوی محمد علی صاحب سے بھی تعلق ہے لکھا کہ ایک مجلس میں ایک شخص قرآن ہاتھ میں لے کر اور قسمیں کھا کھا کر ان باتوں کی اشاعت کر رہا تھا۔غرض لاہور کے بعض اخبار نویسوں اور بعض معززین کی تحریروں اور زبانی پیغاموں سے ہمیں معلوم ہوا کہ یہ لوگ اس فتنہ میں دخل دے رہے ہیں لیکن باوجود اس کے میں یہ نہیں کہتا کہ یہ اس فتنہ کے بانی تھے۔ہاں میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ ان کے دلوں میں چونکہ مجھ سے نفرت اور بغض تھا اس لئے اس معاہدہ کو بھلا کر انہوں نے ایسی باتیں پھیلانی چاہیں۔گو ان باتوں کی بنیاد رکھنے والے اور ہی تھے لیکن یہ لوگ ذاتی عناد اور دشمنی کی وجہ سے ان میں شامل ہو گئے۔بہر حال ان باتوں کے پھیلانے میں مولوی محمد علی صاحب کے گروہ نے حصہ لیا۔میں مانتا ہوں مولوی صاحب نے خود ابتداء میں حصہ نہیں لیا یا کم از کم میرے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں اور میں اس بات کا عادی نہیں کہ جس بات کا ثبوت کوئی نہ ہو وہ کہوں۔بعض دوستوں نے مجھے کہا ہے کہ ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اشتہار بازی کرنے والے ان کے پاس جاتے رہے ان سے مشورہ کرتے رہے اور بعض نے یہ بھی چشم دید شہادت دی کہ ان میں سے ایک کو ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ ٹانگہ میں بیٹھا ہوا دیکھا لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ سمجھ لیا جائے مولوی صاحب نے ان کی باتوں کی تصدیق کی۔جہاں تک میرا خیال ہے مولوی صاحب کا ان لوگوں کی باتوں میں حصہ لینا ثابت نہیں۔مگر بعض دوسروں کا حصہ لینا ثابت ہے خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ نے حصہ لیا۔ان کی طرف سے باہر چٹھیاں بھیجی گئیں۔چنانچہ ایک نے خال دلاور خاں صاحب کو بھی چٹھی لکھی۔غرض تحریری اور تقریری طور پر ان کی طرف سے ہمارے خلاف باتیں جاری رہیں۔ہم ان کا جواب دے سکتے تھے۔دے سکتے ہیں اور اگر ادھر سے اصرار جاری رہا تو شاید دینا پڑے لیکن چونکہ ایسے امور میں دخل دینا انسان کی فطرتی شرافت پر گراں گزرتا ہے۔اور باوجود ان حالات کے ایک شریف آدمی دخل دینے سے خواہ جو ابا ہی ہو حتی الوسع پر ہیز کرتا ہے۔گو اپنی حفاظت اور بچاؤ کے لئے جواب دینا بھی پڑتا ہے اور جواب دینا جائز بھی ہے لیکن چونکہ طبیعت پر ایک قسم کا بوجھ پڑتا ہے اس لئے پر ہیز کیا جاتا ہے۔لڑائی دفاعاً جائز ہے مگر رسول کریم اے نے ایک لمبے عرصہ تک اس سے پر ہیز کیا۔جب آپ نے لڑائی شروع کی تو عقلاً اور اخلاقاً اس