خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 443

خطبات محمود سال ۶۱۹۲۸ لیکن تین ماہ کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ آیا دوسرے فریق نے کوئی اصلاح کی ہے یا نہیں۔اگر اس کا رویہ درست ہوا یا ایسا اشتعال انگیز نہ ہوا کہ جس کی وجہ سے الزامی جوابات کی ضرورت پیش آئے تو پھر اس اعلان کی مدت کو لمبا کر دیا جائے گا ورنہ دوبارہ اعلان کر کے مجبوری کی وجہ سے اس اعلان کو منسوخ کر دیا جائے گا۔جس اعلان میں یہ لکھا گیا وہ میں نے مولوی غلام حسن خاں صاحب کو دیا جو اسے مولوی محمد علی صاحب کے پاس لے گئے اور پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ اس اعلان کو مولوی صاحب نے پسند کیا ہے اور انھوں نے بھی ایک اعلان لکھا ہے جو پیغام صلح میں شائع کرا دیں گے۔میں نے اپنا اعلان اور مولوی صاحب کا اعلان بھی "الفضل " میں شائع کرا دیے۔اس کے بعد ہماری طرف سے قطعی طور پر اخبارات میں کوئی تحریر نہ شائع کی گئی۔میرا دعوی ہے کہ اس سے پہلے بھی ہمارے اخبارات کی تحریرات میں بہت حد تک یہ سلسلہ بند ہو چکا تھا۔شروع شروع میں جب زور تھا اور میں تو یہی کہوں گا کہ اس وقت بھی غیر مبائعین کی طرف سے زیادتی کی جاتی تھی اس وقت ادھر سے بھی اسی رنگ میں لکھا گیا لیکن پھر ہمارے اخبارات نے بہت حد تک لکھنا چھوڑ دیا اور اس تحریک کے بعد تو قطعا چھوڑ دیا۔اور غالبا دو تین ماہ تک پیغام صلح" میں بھی کچھ نہ لکھا گیا۔میرا خیال ہے۔دسمبر ۱۹۲۶ء تک کچھ نہ لکھا گیا۔لیکن اس کے بعد ۱۹۲۷ء کے شروع میں اس قسم کے مضامین پہلی سہ ماہی میں نکلے جن میں معاہدہ کی پابندی نہ کی گئی تھی۔دوسری سہ ماہی میں اس سے زیادہ نکلے اور پھر تیسری سہ ماہی میں اس سے بھی زیادہ اور چوتھی میں غالبا اس سے بھی زیادہ مگر میرے حکم کے ماتحت ہماری جماعت میں خاموشی رہی۔یہاں تک کہ ۱۹۲۷ء کے آخر میں کھلم کھلا بعض ایسے امور کی اشاعت ان کے بہت سے افراد کی طرف سے ہوتی رہی جو درست تعلقات کے لئے بہت ناقص اور قابل اعتراض تھے۔میرا جہاں تک خیال ہے مولوی محمد علی صاحب ابتداء میں ان میں شامل نہ تھے۔اور میں دوسروں کی نسبت بھی یہ نہیں کہتا اور نہ میں نے کہا کہ وہ فتنہ کے بانی تھے۔مگر اس میں شبہ نہیں کہ جب فتنہ ان کے ہاتھ آیا تو نہایت شوق کے ساتھ انہوں نے اس میں حصہ لیا۔ہم اس کا ثبوت دے سکتے ہیں۔گو زبانی امور کے ثبوت ایک حد تک بہت مشکل ہوتے ہیں لیکن ہم مہیا کر سکتے ہیں۔بعض اخبار والوں نے بتایا کہ یہ لوگ ہمارے پاس آئے اور خواہش کی کہ ان امور کو اخبار میں شائع کریں۔بعض غیر احمدی معززین کی چٹھیاں آئیں۔وہ لوگ احمد یہ انجمن