خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 438

خطبات محمود ۴۳۸ سال ۶۱۹۲۸ جسم جذبات کی زندہ تصویر بنا ہوا تھا اور وہ بلبلا کر دعا مانگ رہا تھا۔یہ کیفیت ہے ان قوموں کی جن میں خدا کا نام ہی نام رہ گیا ہے اور حقیقت مٹ گئی ہے۔ان کے مقابلہ میں مسلمان ہیں جن کا زندہ خدا ہے اور جو زندہ رسول کے ماننے والے ہیں اور جو آج بھی خدا کے فضلوں کے اسی طرح وارث ہو سکتے ہیں جس طرح پہلے ہوئے مگر نہ انہیں خدا کی طرف توجہ ہے نہ اس کے رسول کی طرف اور نہ اس قرآن کی طرف اَدْعُوا الی الله پر عمل کرنا تو الگ رہا یعنی یہ کہ وہ تبلیغ کریں ان کی اپنی حالت ایسی ہے کہ اسلام سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالٰی نے مسلمانوں کی بعض خطاؤں اور غلط کاریوں کی وجہ سے یہ وبال ان پر ڈال رکھا ہے۔ورنہ سمجھ میں نہیں آتا جھوٹے مذاہب والوں میں تو اپنے اپنے مذہب کے لئے ایسی قربانیاں اور ایسے ایثار دکھانے والے پیدا ہوں مگر مسلمانوں میں نہ ہوں جنہیں خدا تعالیٰ نے قرآن ایسی کتاب دی جس کا مقصد اور مدعا ہی اَدْعُوا إِلَى اللهِ ہے۔دوسری بات اس آیت میں رسول کریم ﷺ کی طرف سے یہ بیان کی گئی ہے کہ میں اور میرے متبع عقل اور دلیل پر چلتے ہیں مگر اب نظریہ آتا ہے کہ مسلمان ہی عقل اور دلیل کو سب سے زیادہ چھوڑنے والے ہیں۔اس وقت مسلمانوں کے علماء کے پاس اگر کوئی چیز باقی رہ گئی ہے تو صرف روایت۔رسول کریم ﷺ تو فرماتے ہیں۔عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي مگر یہ کہتے ہیں فلاں نے یہ بات لکھی ہے خواہ وہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے ہم اس کو مانیں گے۔خدا اور خدا کا رسول تو ایمان کی بنیاد عقل اور دلیل پر رکھتا ہے اور رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں میں ہی عقل اور دلیل پر قائم نہیں ہوں بلکہ جو بھی میرا سچا متبع ہو گا وہ اپنے ایمان کو عقل اور دلیل پر قائم کرے گا وہ کبھی یہ نہ کہے گا کہ فلاں نے یوں کہا ہے اس لئے میں فلاں بات مانتا ہوں بلکہ وہ یہی کہے گا عقل اور دلیل سے مجھے یہ بات معلوم ہو گئی ہے اس لئے مانتا ہوں۔پس مؤمن یہ حریت اور آزادی دکھاتا ہے۔وہ سارے واسطے مٹا دیتا اور براہ راست خدا تعالی تک پہنچتا ہے۔یہی ایک سچے مومن کی شان ہے ہم مانتے ہیں کہ اللہ تعالی اور ہمارے درمیان کوئی واسطہ نہیں حتی کہ رسول جو سب سے بڑی چیز ہے اسے بھی ہم واسطہ نہیں سمجھتے کیونکہ ہم مشرک نہیں۔رسول کریم ﷺ ہمارے ہادی اور راہ نما ہیں مگر ہمارے اور خدا تعالٰی کے در میان بند دروازہ نہیں ہیں بلکہ کھلا دروازہ ہیں تاکہ ہم اس دروازہ میں سے گذر کر خدا تعالٰی تک پہنچ جائیں۔