خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 436

خطبات محمود ۳۶ سال ۱۹۲۸ء پاتے ہیں ہمارے بعض دوست وہاں گئے تو انھیں اس قسم کا لڑ پچر ملا جو عیسائیت کی تبلیغ کے لئے شائع کیا گیا تھا۔وہاں انجمنیں بنی ہوئی ہیں جو سوالات بنا کر شائع کرتی ہیں اور لوگوں سے جواب حاصل کرتی ہیں وہ سوالات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ جواب دینے والے مجبور ہوتے ہیں کہ عیسائیت سے محبت کا اظہار کریں۔اس کے مقابلہ میں ہمارے کالجوں کے طلباء کو دیکھو وہ کیا کرتے ہیں۔یہی نہیں کہ دوسروں کو اسلام کی طرف متوجہ نہیں کرتے بلکہ خود ان کے دلوں میں شکوک اور شبہات پیدا ہوتے ہیں۔بے شک اس کی ذمہ داری علماء پر پڑتی ہے کہ کیوں انھوں نے اسلام کو ایسے رنگ میں پیش کیا جس سے اعتراض دارد ہوتے ہیں مگر اعتراض کرتے تو نوجوان ہی ہیں۔پھر ان کی توجہ اسلامی احکام کی تعمیل کی طرف نہیں۔ہزار میں سے پانچ سات نماز پڑھتے ہوں تو پڑھتے ہوں باقی نہیں۔ادھر عیسائیوں کو دیکھو ان کا مذہبی جوش دیکھ کر لطف آجاتا ہے جہاں مسلمانوں کی مذہبی حالت دیکھ کر رقت پیدا ہوتی ہے۔جب یورپ میں جنگ عظیم جاری تھی تو ایک موقع پر فریقین نے انتہائی زور صرف کر دیا کیونکہ ہر ایک چاہتا تھا کہ اس سال لڑائی کا خاتمہ ہو جائے اس کے لئے بڑا سامان جمع کیا گیا اور ہر فرد جو بھی مل سکتا تھا اسے میدان جنگ میں لایا گیا۔نہایت زبر دست جنگ شروع ہوئی۔اس وقت انگلستان کی جنگی کمیٹی کو تار پہنچا کہ اس وقت ہماری یہ حالت ہے کہ ہم دیوار سے پیٹھ لگا کر لڑ رہے ہیں اگر اس وقت ہم ذرا بھی ہل گئے تو کہیں ہمارا ٹھکانا نہ رہے گا۔اس وقت کیبنٹ میٹنگ ہو رہی تھی اور مشورہ کیا جا رہا تھا کہ لڑائی کے لئے کیا کیا سامان جمع کیا جائے اور کہاں کہاں بھیجا جائے کہ یہ تار پہنچا۔لائڈ جارج اس وقت وزیر اعظم تھے وہ تار لے کر کھڑے ہو گئے اور سب کو مخاطب کر کے کہنے لگے یہ تار آیا ہے اب باتوں کا وقت نہیں رہا اور اب وہ ایک ہی طریق اختیار کریں جو باقی رہ گیا ہے اور جس کے بغیر اور کوئی طریق نہیں ہے اور وہ یہ کہ خدا کے آگے جھک جائیں اور اس سے دعا کریں کہ ہم کامیاب ہوں۔یہ کہہ کر سب کے سب جھک کر دعا کرنے لگ گئے۔یہ اس قوم کی حالت ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے خدا کو چھوڑ دیا جو مذہب ترک کر چکی ہے اور جو حقیقت مذہب سے ایسی ہی ناواقف ہے جیسے جانور فلسفہ سے ناواقف ہوتا ہے۔یہ سب کچھ صحیح مگر باوجود اس کے اس میں ایک چیز قائم ہے اور وہ مذہب کا ادب ہے۔باوجود اس کے کہ ان کا مذہب ان کی تسلی نہیں کر سکتا اور باوجود اس کے کہ ان کی دعاؤں میں