خطبات محمود (جلد 11) — Page 38
سال 1927ء ۳۸ خطبات محمود اور اس پر غور کیا جائے کہ کیا یہ بات جھوٹی ہے کہ نماز سب ترقیوں اور برکتوں کی منبع ہے یا پھر ہمارا عمل جھوٹا ہے۔ اگر عمل جھوٹا ہے اور نماز میں برکت اور فائدہ ہے تو ہمیں اس فائدہ کو لینا چاہئے۔ اور اگر نمازوں میں کوئی فائدہ نہیں اور ان کے ذریعے کوئی برکت اور کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی تو پھر اس کو چھوڑ دینا چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی شخص سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کرے گا اور اچھی طرح اس پر خیال کرے گا تو وہ سمجھ لے گا کہ اس کی حکمت کو ہی نہیں سمجھا گیا۔ ورنہ اس میں بہت بڑے فائدے ہیں۔ ہر بات کی حکمت کا سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ اور جب تک کسی بات یا کسی کام کی حکمت نہ سمجھی جائے وہ فائدہ نہیں دیتا۔ اگر کوئی شخص نوکری کرتا ہے اور اس نوکری کی حکمت نہیں جانتا۔ تو وہ نوکری اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اسی طرح علاج ہے۔ علاج بھی بغیر حکمت جانے نہیں ہو سکتا۔ اگر ایک شخص کھیتی باڑی کرتا ہے اور بغیر ان کی حکمت جانے کے کرتا ہے۔ تو وہ کھیتی باڑی اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اسی طرح ہر کام کے متعلق ہے کہ جب تک اس کی حکمت کو نہ سمجھا جائے وہ فائدہ نہیں دیتا۔ نماز کی بھی چونکہ حکمت نہیں سمجھی گئی اس لئے نماز بھی آج کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ ایسا ہی اذان اور مسجد میں آکر نماز پڑھنے کا حال ہے۔ اگر ان سب کی حکمت سمجھی جاتی۔ تو آج یہ حالت ہی نہ پیدا ہوتی کہ لوگ اس کے بغیر کامیابیوں اور ترقیوں کا پانا ممکن سمجھ لیتے۔ غرض لوگ نماز کو محض اس کی حکمت کے نہ سمجھنے سے کامیابیوں کے راستے میں روک بتا رہے ہیں۔ اور اس میں کوئی خیر و برکت نہیں پاتے۔ لیکن میں آج اس سوال کو پیش کرتا ہوں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اس پر غور کریں اور سوچیں کہ کیانی الواقع اس میں کوئی برکت اور رحمت نہیں۔ اور اس کے ذریعے کوئی کامیابی نہیں مل سکتی یا یہ کہ یہ تو فی الواقع برکت اور رحمت اپنے اندر رکھتی ہے۔ اندرر اور اس کے ذریعے کامیابی میسر آسکتی ہے۔ لیکن ہم ہی نہیں سمجھ سکے کہ اس میں کیا عمتیں ہیں۔ یہ سوال غیروں کے لئے ہی نہیں جماعت احمدیہ کے افراد کے لئے بھی ہے۔ خواہ ان کو نمازوں میں لذت اور سرور آتا ہو اور خواہ وہ ان برکات اور رحمتوں کو پاہی رہے ہوں جو اس کے ذریعے مل سکتی ہیں۔ وہ بھی غور کریں کہ نماز جو کامیابیوں کی جڑ ہے اور جس سے تمام بلائیں اور مشکلیں جاتی ہیں اور تمام فتنے اور فساد رک جاتے ہیں۔ آج کیوں موثر نہیں ہو رہی اور کیوں آج اس کے وہ نتائج نہیں پیدا ہو ر ہے جو رسول کریم ان کے وقت پیدا ہوتے تھے اور ان نتائج کے پیدا ہونے کے راستہ میں کیا روکیں ہیں اور وہ روکیں کیونکر دور ہو سکتی ہیں۔ پس یہ سوال دور ہو