خطبات محمود (جلد 11) — Page 426
خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء مجھتے شبہات کا دروازہ کھولا جائے گا تو سب کے لئے کھل جائے گا اور پھر قیامت تک مسلمان اکٹھے نہ ہو سکیں گے۔اگر مسلمان اس سے باز نہیں رہ سکتے تو انھیں کبھی کامیابی حاصل نہ ہو گی۔دیکھو ویسے ہی ہندوؤں میں اختلاف پائے جاتے ہیں جیسے مسلمانوں میں ہیں۔سناتنی آریوں کو ہندو دہرم سے خارج سمجھتے ہیں اور آریہ سناتیوں کو۔پھر جینی ویدوں کے ہی قائل نہیں۔کفر کا لفظ ہندوؤں میں نہیں کیونکہ ان کی زبان اور ہے۔لیکن بتاؤ اگر کوئی قرآن کا ہی منکر ہو تو وہ مسلمان کہلا سکتا ہے ؟ مگر جینی ویدوں کا انکار کرتے ہیں باوجود اس کے ہندو ان کو ہندو کہتے ہیں۔اسی طرح وہ بدھ جنہوں نے ہندوؤں کے مندروں کو برباد کر دیا اور وہ جن کی بنیاد ہی ظالمانہ افعال پر سمجھی جاتی ہے آج وہ قاتل اور مقتول جمع ہو گئے ہیں تاکہ مسلمانوں کو مٹا دیں۔حالانکہ ان میں سے ایک ایک فرقہ اس قدر دولتمند اور مالدار ہے کہ وہ اکیلا ہی مسلمانوں کو نکال سکتا ہے مگر باوجود اس کے وہ تمام فرقے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اپنی طاقت بڑھانا ضروری سمجھے ہیں۔مگر مسلمان باوجود اس کے کہ ان کے مقابلہ میں بہت کمزور ہیں اور تعداد میں بھی بہت تھوڑے ہیں اتحاد کی ضرورت نہیں سمجھتے اور اگر اتحاد کی کوئی تجویز پیش کی جاتی ہے تو کہتے ہیں اس میں پیش کرنے والوں کی کوئی ذاتی غرض ہوگی۔ان کی قومی بربادی کی ایسی مثال ہے جیسا کہ مشہور ہے ایک اندھا اور ایک سو جا کھا اکٹھے کھانا کھانے بیٹھے۔اندھے نے خیال کیا مجھے تو نظر نہیں آتا سو جا کھا بہت جلدی جلدی کھا رہا ہو گا یہ خیال کر کے وہ جلدی جلدی کھانے لگ گیا۔پھر اس نے سمجھا جلدی کھانا تو اس نے دیکھ لیا ہو گا۔اب اس نے کوئی اور صورت اختیار کی ہوگی اس پر اس نے ایک ہاتھ سے کھانا اور دوسرے ہاتھ سے جھولی میں ڈالنا شروع کر دیا۔اس پر اسے خیال آیا یہ بھی اس نے دیکھ لیا ہو گا اور اس نے کوئی اور ترکیب اختیار کی ہو گی۔تب اسے کوئی اور ترکیب تو نہ سو جبھی تھالی اٹھا کر کہنے لگا اب یہ میرا حصہ ہے تم نے بہت کھا لیا سوجا کھا اس کی حرکات دیکھ دیکھ کر ہنس رہا تھا کہ اسے ہو کیا گیا ہے۔بعینہ یہی مثال مسلمانوں کی ہے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کی حالت کیا ہے۔وہ دوسرے کے متعلق سمجھتے ہیں اسے گرانے کی کوشش کرنی چاہئے ورنہ وہ سب کچھ کھا جائے گا۔میں کہتا ہوں تم اپنی اپنی خصوصیات قائم رکھو مگر جو مشترکہ مسائل ہیں ان میں تو مل کر کام کرو۔جاؤ ہندوؤں سے جا کر پوچھو کیا وہ اس لئے اسلام پر حملہ کرتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔اگر اس لئے نہیں بلکہ اس لئے حملے کرتے ہیں کہ مسلمان مسلمان کیوں ہیں تو پھر اسلام کو بچانے کے لئے -