خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 381

خطبات محمود ۳۸۱ سال ۶۱۹۲۸ ہے اور انسان کے اعمال کو طائر کہا گیا ہے۔ بعض نے اس کی یہ وجہ سمجھی کہ جو عمل انسان کرتا ہے وہ اڑ جاتا ہے اس لئے انسانی اعمال کو طائر کہا گیا ہے مگر میرے نزدیک یہ غلط ہے۔ اگر انسان جو عمل کرے وہ اڑ جائے تو اس میں اس کا کیا حرج ہے۔ اس طرح تو وہ فائدہ میں رہے گا کہ کسی بات کے متعلق اس سے باز پرس نہ ہو گی۔ میرے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کے اعمال میں بھی ایک قسم کی وحشت پائی جاتی ہے۔ عمل اڑتا ہے مگر آواز پر پھر آجاتا ہے۔ ایک انسان جب اپنے گذشتہ اعمال سے توبہ کرتا ہے اپنی بداعمالیوں پر اظہار ندامت کرتا ہے آئندہ کے لئے ان ان ۔ سے بچنے کا عہد کرتا ہے تو وہ اعمال اس سے جدا ہو جاتے ہیں۔ لیکن دو چار دس میں سال تک تو بہ پر وہ قائم رہتا ہے اور پھر اس پر ابتلاء آجاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے۔ یہ نافرمانی آواز ہوتی ہے جس پر اس کے وہ پہلے اعمال پھر اس کے پاس آجاتے اور اس کے نامہ اعمال میں لکھے جاتے ہیں۔ یہی نہیں کہ تو بہ توڑنے کے بعد جو اعمال کرے گا وہ اس کے نام لکھے جائیں گے بلکہ تو بہ کرتے وقت جو اعمال اس نے کئے تھے وہ بھی لکھے جائیں گے ۔ مثلاً ایک شخص میں سال کی عمر میں مسلمان ہوتا ہے اور پچاس سال کی عمر تک مسلمان رہتا ہے اس کے بعد کافر ہو جاتا ہے تو اس کے نام وہ اعمال بھی لکھے جائیں گے جو اس نے مسلمان ہونے سے پہلے کئے تھے کیونکہ جب اس نے اپنے کفر سے اعمال کو بلایا تو وہ فورا اس کے پاس جمع ہو جاتے ہیں یہی حال اعمال کا ہوتا ہے۔ ایک شخص چالیس پچاس سال مؤمن رہتا ہے پھر اسے ٹھوکر لگتی ہے اور کافر ہو جاتا ہے تو یہی نہیں کہ اس کے مؤمن ہونے کی حالت کے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔ اگر وہ اپنی زندگی کے آخری سال کا فر ہو جاتا ہے تو وہ کافر ہی سمجھا جائے گا اسی طرح اگر کوئی ساری عمر کا فر رہتا ہے۔ لیکن زندگی کے آخری سال میں مسلمان ہو جاتا ہے تو وہ مومن سمجھا جائے گا۔ غرض اعمال خواہ بد ہوں یا نیک ان کی مثال سدھے ہوئے پرندہ کی سی ہوتی ہے جو اڑ کر دور چلا جاتا ہے مگر پھر آواز دینے پر پاس آجاتا ہے اسی طرح اعمال خواہ بد ہوں یا نیک انسان کے تغیر کے ساتھ اڑ جاتے ہیں اور تغیر کے ساتھ جمع ہو جاتے ہیں۔ اگر کفر کے پرندے ہوں تو جب کوئی شخص کفر کی آواز اٹھاتا ہے وہ اس کے پاس جمع ہو جاتے ہیں اور اگر ایمان کے پرندے ہوں تو جب ایمان کی آواز اٹھاتا ہے اس کے پاس آجاتے ہیں۔ پس اعمال انسانی انسان کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں اور عجیب عجیب اثرات ظاہر کرتے ہیں۔ ان کی مثال جنات کی سمجھو (پرندہ