خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 380

خطبات محمود ۵۱ سال ۱۹۲۸ء جیسا کروگے ویسا بھرو گے (فرموده ۱۱/ مئی ۱۹۲۸ء) تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: عربی کی ایک مثل ہے۔كَمَا نَدِینُ تُداَن کہ جس طرح تم کسی سے معاملہ کرو گے تمہارے ساتھ بھی اسی طرح کیا جائے گا۔یہ مثل در حقیقت بہت سی روحانی باتوں پر مشتمل ہے اور ایسے منہ سے نکلی ہوئی ہے جس کے پیچھے ایک سوچنے والا دماغ اور ایک غور کرنے والی طبیعت تھی۔تمام قانون قدرت میں ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کے اعمال عجیب پیرا یہ میں اس کے گرد چکر لگاتے پھرتے ہیں۔وہ بظاہر اس کے ساتھ وابستہ بھی نہیں ہوتے مگر اس سے جدا بھی نہیں ہوتے۔ان کی مثال پرندہ کی اور سدھے ہوئے پرندہ کی طرح ہوتی ہے۔جس طرح سیدھا ہوا پرندہ انسان سے جدا ہوتا ہے اور بظا ہر جدا نظر آتا ہے لیکن آقا کی آواز پر پھر اس کے پاس آجاتا ہے اسی طرح انسان کے اعمال کی حالت ہوتی ہے۔لوگ باز اور شکرے پالتے ہیں اور ان کو کو شکار کے پیچھے چھوڑتے ہیں پھر انہیں آواز دیتے ہیں تو وہ ان کے پاس آجاتے ہیں۔کبوتروں کو لوگ پالتے ہیں کبوتر اڑ کر دور نکل جاتے ہیں پھر جب آقا آواز دیتا ہے تو اس کے پاس آجاتے ہیں۔پس جس طرح پرندہ ایک قسم کی وحشت بھی رکھتا ہے اور باوجود اس کے انسان کے ساتھ ایک قسم کا اتحاد بھی رکھتا ہے بعینہ اسی طرح انسان کے اعمال کی حالت ہے۔حیوانوں کو بھی لوگ پالتے ہیں بلی کہتے اور دوسرے چوپاؤں میں یہ مادہ ہے کہ ان کی وحشت بڑی حد تک دور ہو جاتی ہے۔ایک شخص کتا پالتا ہے کتا بھی اس سے جدا ہوتا ہے مگر وہ جدا ہونا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے بیٹا باپ سے جدا ہوتا ہے لیکن پرندوں میں وحشت باقی رہتی ہے وہ کبھی چوپاؤں کی طرح ہل نہیں سکتے۔یہی وجہ ہے کہ عربی زبان میں اور قرآن میں اس محاورہ کو استعمال کیا گیا۔