خطبات محمود (جلد 11) — Page 368
خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء کی اصل غرض حاصل نہیں ہو سکتی۔اسی طرح اشتہار اعلان اور ڈھنڈورہ کے متعلق بھی ابھی سے تیاری کرنی چاہئے۔پھر یہ بھی ایک دوست کی تحریک ہے جس کی میں نے تصدیق کی ہے کہ جن کے مضامین اعلیٰ رہیں گے ان کو انعام میں سند اور تمغہ دیا جائے گا۔اس کے لئے غیر مسلم لوگوں میں تحریک کرنی چاہئے اور ان کو مضمون تیار کرنے کے لئے کہنا چاہئے۔اس وقت تک اس طرف بہت کم توجہ کی گئی ہے۔اس کے متعلق درجن ڈیڑھ درجن کے قریب نام آئے ہیں جنہوں نے مضمون لکھنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے مگر یہ بہت تھوڑی تعداد ہے۔برہمو سماج والے جب اپنے لیڈر کی پیدائش کا دن مناتے ہیں تو دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی لیکچر دینے کے لئے بلا لیتے اور ان سے لیکچر دلاتے ہیں۔اگر مسلمان کوشش کریں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ رسول کریم ال جیسے انسان کے متعلق لیکچر دینے کے لئے دوسرے مذاہب کے لوگ تیار نہ ہو جائیں۔اس کام کے لئے اچھے سے اچھے لیکچرار تیار ہو سکتے ہیں۔بات یہ ہے کہ ہر قوم میں شریف ہوتے ہیں جو اپنی شرافت کے اظہار کے لئے موقع ڈھونڈتے ہیں۔اسی طرح ہندوؤں اور عیسائیوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پر اعتراض کرنے والوں کے خلاف آواز اٹھائیں مگر انہیں اس کے لئے کوئی موقع نہیں ملتا۔اب یہ جلسے ان کے لئے موقع ہو گا اور وہ رسول کریم ای کے حالات زندگی بیان کر کے آپ کی خوبیاں ظاہر کر سکیں گے اور جتنا لطف غیر مذاہب کے لوگوں کی طرف سے رسول کریم ﷺ کی خوبیوں کے اظہار پر آئے گا اتنا اپنوں کی طرف سے اظہار پر نہ آئے گا ان کے لئے انعام بھی مقرر کیا گیا ہے۔احباب ان کو تیار کرنے کی کوشش کریں یہ بہت مفید کوشش ہوگی۔اور پھر جب ان مضامین کی کتاب چھپ جائے گی جس میں ہندوؤں، سکھوں ، عیسائیوں ، یہودیوں اور پارسیوں وغیرہ کے مضامین رسول کریم ﷺ کی شان میں ہوں گے تو وہ کتاب غیر مسلموں پر اثر ڈالنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہوگی۔مگر اس طرف ابھی تک بہت کم توجہ کی گئی ہے حالانکہ دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں مدراس ، بمبئی ، برار کے لوگوں نے بہت ہی کم توجہ کی ہے بلکہ یوپی اور بہار میں بھی توجہ میں بہت کمی ہے۔بنگال کا نام میں اس لئے نہیں لیتا کہ وہاں کے دوستوں نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ اس علاقہ میں جلسے کرائیں گے۔بنگال کے احباب پنجاب اور صوبہ سرحد کے بعد عمدگی اور ہوشیاری سے کام کرنے کے لحاظ سے اپنا درجہ رکھتے ہیں اس لئے گو انہیں خود توجہ ہے مگر میں پھر کہوں گا وہ اپنی طرف سے پوری کوشش جاری رکھیں۔پنجاب اور