خطبات محمود (جلد 11) — Page 367
خطبات محمود ۳۶۷ سال ۱۹۲۸ء رسول کریم اللہ کی شان کے اظہار کے لئے جو جلسے ہوں ان میں مسلمانوں کو بغیر اس خیال کے کہ کون پریذیڈنٹ ہوتا ہے یا کون نہیں ہو تا شریک ہونا چاہئے مگر افسوس ہے تعلیم کی کی کمی کی وجہ سے ابھی مسلمانوں میں یہ بات نہیں پائی جاتی اور سارے لوگ ایسے نہیں ہوں گے جو ان جلسوں میں پوری پوری دلچسپی لے کر اور شوق کا اظہار کر کے دنیا کو بتا دیں کہ ہم رسول کریم کے ایسی فدائی ہیں کہ دنیا ہمیں کسی طرح بھی آپ سے جدا نہیں کر سکتی اس لئے ضرورت ہے کہ لوگوں کو ان جلسوں کی اہمیت بتانے کی کوشش کی جائے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ کثرت سے کسی بات کے متعلق اشتہار دیئے جائیں تو اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں بار بار جو اس کے لئے بلایا جاتا ہے تو ضرور اس میں کوئی بات ہوگی۔ ایسے لوگ محض اعلان ڈھنڈورہ اور اشتہارات سے متاثر ہو کر آجاتے ہیں۔ پھر کئی اس طرح متاثر ہوتے ہیں کہ اس چیز کی خوبی انہیں بتائی جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ ۱۷/ جون کے جلسہ سے قبل مختلف محلوں اور مختلف موقعوں پر جلسے کر کے لوگوں کو بتایا جائے کہ کتنے عظیم الشان فوائد اس جلسہ سے مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس کے لئے وہ خطبے بنائے جائیں جو میں نے اس بارے میں پڑھتے ہیں۔ پھر عام لوگوں کو بڑے آدمیوں سے تعلق ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس جلسہ کی صدارت کے لئے ایسے آدمی تجویز کئے جائیں جنہیں لوگوں میں رسوخ اور اثر حاصل ہو۔ لوگوں کو ان سے محبت ہو اور وہ لوگوں کے کام آنے والے ان کو فوائد پہنچانے والے اور ان سے وابستگی رکھنے والے ہوں۔ مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ جسے صدارت کے لئے چنا جائے اس میں اتنی قابلیت ہو کہ جلسہ کا انتظام کر سکے ۔ لوگوں کی توجہ لیکچروں کی طرف قائم رکھ سکے اور تقریروں پر مفید طور پر تنقید کر سکے اس وجہ سے ابھی سے ایسے لوگوں کا انتخاب شروع کر دینا چاہئے۔ اسی طرح جلسہ کی جگہ کے لئے بھی ابھی سے انتظام کرنا چاہئے ۔ کئی دفعہ خیال کر لیا جاتا ہے کہ فلاں جگہ مل جائے گی اور وہاں جلسہ کر لیں گے ۔ مگر دریافت کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس دن کسی اور وجہ سے رکی ہوئی ہوگی۔ اس طرح عین موقع پر بہت مشکل پیش آتی ہے۔ پس اگر کسی جگہ کسی ہال میں جلسہ کرنے کی تجویز ہو تو ابھی سے اس تاریخ کے لئے ہال کا انتظام کر لینا چاہئے۔ اور اگر کسی کھلی جگہ جلسہ کرنا ہو تو اس کے لئے بھی ابھی سے اجازت وغیرہ حاصل کر لینی چاہئے۔ ورنہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ وقت پر جگہ کا انتظام نہیں ہو سکتا اور پھر کہا جاتا ہے چلو مسجد وغیرہ میں جلسہ کر لیں اور اس طرح جلسہ