خطبات محمود (جلد 11) — Page 29
וייי خطبات محمود ۲۹ سال 1927ء بھیجتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ انبیاء کو بھیجتا ہے۔ جو سب سے زیادہ معزز ہوتے ہیں۔ ان انبیاء کے ذریعہ اپنے بندوں کو اپنی طرف بلاتا ہے۔ خود ان کے لئے دروازے کھولتا ہے۔ نبیوں کو بھیجتا ہے کہ جاؤ میرے بندوں کو میری فوج میں بھرتی کرو۔ اس خدمت اور اس بھرتی کے لئے جس شخص کو اللہ تعالٰی بھیجتا ہے۔ اسے پورا پورا اعزاز بخشا ہے۔ معمولی انسان کو نہیں بھیجتا۔ اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کی منشا اور مرضی کے مطابق اس کے ایک نبی نے ایک جماعت قائم کی۔ خدا کے بندوں کو اس کی طرف بلایا اور جمع کیا تا وہ اللہ تعالیٰ کے خدمت گزار بندے بن جائیں۔ ہم لوگ بھی اس کی جماعت میں اسی لئے داخل ہوئے ہیں کہ ہم خدا کے خدمت گزار بندوں میں شامل ہوں لیکن اس خدمت گزاری کے لئے کچھ شرائط ہیں۔ اگر وہ شرائط پوری نہ کی جائیں اور ان پر نہ چلا جائے تو پھر صرف خدمت گزار کہلانے سے تو کچھ فائدہ نہیں حاصل ہو گا۔ جب تک ان شرائط کو پورا نہ کیا جائے۔ تب تک ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا دیکھو سکول میں داخل ہونے سے ایک شخص طالب علم تو کہلا سکے گا۔ لیکن اگر وہ داخل ہونے کی غرض کو مد نظر نہ رکھے گا اور علم کے حصول کے لئے کوشش نہ کرے گا تو اسے صرف طالب علم کہلانے سے اور سکول میں داخل ہو جانے سے علم نہیں حاصل ہو جائے گا اور نہ وہ عالم کہلائے گا۔ بہت سے لڑکے ہوتے ہیں جو کہلائے تو طالب علم ہیں لیکن سارا وقت بجائے علم کے حصول کے جہالت کے حصول میں خرچ کر دیتے ہیں۔ کیا وہ صرف طالب علم کہلانے یا سکول میں داخل ہونے سے عالم کہلانے کے امیدوار ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ہم بھی ایک مدرسہ میں داخل ہوتے ہیں۔ جس میں داخل ہونے کی غرض محض یہی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے خدمت گزار غلام بن جائیں اور اس کا قرب حاصل ہو ۔ مگر صرف اس مدرسہ میں ہمار ا داخل ہونا ہمیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ جب تک ہماری کوششیں اس غرض کے حصول کے لئے انتہائی نقطہ پر نہ پہنچ جائیں۔ اور جب تک ہم پورے طور پر ر پر جد و جهد نہ کریں تب تک ہم سچے طور پر خدا کے غلام کہلانے کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ پس ضروری ہے کہ اس شرط کو قبول کریں اور پورے طور پر بجالائیں۔ وہ ایک ہی شرط ہے۔ کہ موت قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ یعنی ہمارا کوئی کام خدا تعالیٰ کی منشا کے خلاف نہ ہو۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم ایک دن میں ہی تمام بدیوں سے پاک ہو جا ئیں۔ بہت لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ بس پہلے دن ہی انسان تمام بدیوں سے پاک ہو جائے۔ یک لخت اس کے اندر پوری تبدیلی پیدا ہو جائے ۔ اگر یہ شرط ہوتی تو سوائے اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کے جو ازلی طور پر پاک