خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 336

خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء ہیں کیونکہ انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ ہمارے منہ سے ایک دفعہ کسی بات کے کہہ دینے سے خدا پر اس کا اسی طرح کر دینا فرض ہو گیا ہے جس طرح ہم چاہتے ہیں اور اگر اس طرح نہیں ہو سکتا تو پھر ایسے خدا کی عبادت کرنے سے کیا فائدہ۔اس خیال کی وجہ سے کئی لوگ دہر یہ ہو گئے ہیں۔پہلے خیال کے لوگ بھی اسی خیال کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔اور اسی بات کا اثر ہے کہ عام طور پر لوگ بد دعا سے بہت ڈرتے ہیں اور سمجھتے ہیں جب کسی نے بد دعا دی تو وہ فورا قبول ہو جائے گی اور ہم برباد ہو جائیں گے۔عورتوں میں تو یہ خیال بہت ہی ترقی پر ہے۔وہ سمجھتی ہیں جب کسی نے کہا تیرا بچہ مرے تو بس وہ ضرور ہی مرجائے گا۔وہ اتنا نہیں سوچتیں کہ خدا " اندھیر نگری چوپٹ راجہ " نہیں بلکہ وہ بصیر ہستی ہے وہ خود ہر بات کو دیکھتا ہے۔اس سے بڑھ کر کیا ظلم ہو سکتا ہے کہ کوئی منہ سے کہہ دے کہ یا الہی فلاں کے بچے مر جائیں تو خدا مارنا شروع کر دے۔تو عورتوں نے خصوصاً بد دعا کو ایک کھیل اور تماشہ سمجھ رکھا ہے اور ان کا اعتبار دعا کی قبولیت کی نسبت بد دعا پر بہت زیادہ ہے گویا وہ سمجھتی ہیں کہ خدا کچھ دینے کو اس طرح تیار نہیں ہوتا جیسا لینے کے لئے ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں مخفی طور پر یہ احساس ہے کہ خدا تعالٰی نعوذ باللہ ظالم اور سخت گیر ہے وہ دعا کو اتنا نہیں سنتا جتنا بد دعا کو سنتا ہے۔حالانکہ قرآن کریم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ دعا ئیں سنتا ہے اور بد دعا کو نہیں سنتا۔چنانچہ فرمایا رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْىءٍ (الاعراف ۱۵۷) کہ میری جملہ صفات پر میری رحمت غالب ہے۔اور جب رحمت غالب ہے تو رحمت تو دعا کو قبول کرنے والی چیز ہے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رحمت دبی رہے اور قہر غالب آجائے۔یہ دعا کا غلط مفہوم ہے۔یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص سازی عمر دعائیں کرتا رہے۔وہ نیک و متقی بھی ہو۔احکام شریعت پر چلنے والا بھی ہو۔مگر وہ مر جائے اور اس کی دعا قبول نہ ہو۔اور ایک دوسرے شخص کے دل میں چلتے چلتے ایک خواہش پیدا ہو اور وہ پورے طور پر اس کو الفاظ میں ادا بھی نہ کرنے پائے اور وہ پوری ہو جائے۔مگر ساری عمر دعا کرنے کے باوجود دعا کے قبول نہ ہونے کے یہ معنے ہر گز نہیں ہو سکتے کہ دعا رد کر دی جاتی ہے۔جیسے ایک مریض سینکڑوں طبیبوں کے علاج کے باوجود مرجاتا ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ علم طب ہی کوئی چیز نہیں۔ایک دوسرے مریض کو کسی حکیم یا طبیب کا علاج یا مشورہ میسر نہیں ہو تا بلکہ ایک بڑھیا صرف اتنا کہتی ہے کہ ہمارے ہاں بھی ایک شخص اس مرض میں مبتلاء ہوا تھا تو ہم نے اسے فلاں