خطبات محمود (جلد 11) — Page 318
خطبات محمود PA سال ۶۱۹۲۸ بھی پسند آگئی۔لیکن اگر کوئی جان بوجھ کر ایسی بات کے یا اسے اپنا عقیدہ بنا لے تو یہ کفر ہو گا۔تو جوش محبت میں ایک جاہل یا جوش محبت کے وقت کی جہالت میں ایک عالم بھی جاہلانہ فقرہ کہہ دیتا ہے مگر اپنی نیت اور وقت اور موقع کے لحاظ سے خدا تعالی کا پیارا بن جاتا ہے۔ہاں عقیدہ کے لحاظ سے ایسی بات جائز نہیں ہوتی اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو جاتی ہے۔وہی نقشہ جو مولانا روم نے کھینچا ہے ہندوؤں کا عقیدہ ہے۔ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب پر میشور سوتا ہے تو لکشمی اس کے پاؤں دباتی ہے ایسا ہی جیسے چرواہے نے عشق میں کہا تھا۔کسی نے اپنے عشق میں یہ بات کہی جو بعد میں عقیدہ بن گئی یا کسی نے رویا دیکھی اور رویا کی تعبیر ہوتی ہے مگر لوگوں نے اسے ظاہر پر محمول کر لیا۔پس ایک تو لوگ ایسے ہیں جو خدا تعالٰی کے متعلق ایسے خیال اور ایسے عقائد رکھتے ہیں جو اس کو بالکل انسان ثابت کرتے ہیں۔یعنی ان کے عقیدہ کی رو سے وہ کھاتا پیتا اور پہنتا ہے، گھوڑوں اور رتھوں پر سوار ہوتا ہے ، شراب کے تھے اسے پیش کئے جاتے ہیں ، وہ روٹھتا ہے ناراض ہوتا ہے ، بگڑتا ہے ، ایک دوسرے کو لڑاتا ہے ان باتوں کو عقائد کا جزو بنا لیا گیا ہے۔اب یہ باتیں عاشقانہ ترنگ اور والہانہ لے نہیں رہیں جو عقل کے ماتحت تو گناہ ہوتی ہیں مگر عشق کی ہر کے جنون میں محبت کا باعث ہو جاتی ہیں۔ایسی بات کو غلطی کہا جا سکتا ہے مگر نہایت پیاری غلطی۔اسے ٹھو کر کہا جاسکتا ہے مگر نہایت ہی محبت آمیز ٹھو کر لیکن ان کو جزو مذہب سمجھ لیا گیا ہے اور ان پر عقائد کی بنیاد رکھی جاتی ہے اس لئے کفر بن گئی ہیں۔اور کچھ لوگوں نے اس کے خلاف اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسے عقائد بنالئے ہیں کہ ان کے ماتحت اللہ تعالی کی ہستی بالکل ایک فلسفیانہ خیال رہ جاتا ہے اور وہ تمام صفات سے عاری ہو جاتا ہے۔مثلا یہی کہ وہ دعا کے متعلق کہتے ہیں اگر خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے اور پھر رحیم بھی ہے وہ بندے کی حالت کو خود دیکھ رہا ہے تو خود ہی رحم کرے گا اس کی کیا ضرورت ہے کہ ہم اس سے دعائیں کریں اور التجائیں کریں۔ایک شخص مر رہا ہے تو کیا اس کو محض اس لئے مرنے دے گا کہ وہ اس سے دعا نہیں کرتا۔کیا دعا کے بغیر وہ اپنے بندے کی خبر گیری نہیں کرے گا۔اگر کرے گا تو اس کے سامنے عجز و انکسار کے اظہار کی اور دعا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔بے شک اگر خدا کو فلسفیانہ خیال کے مطابق سمجھا جائے تو پھر میں ان لوگوں کے خیال کی تردید نہیں کروں گا مگر دیکھنا یہ ہے کہ خدا تعالٰی معاملہ کس سے کرتا ہے۔ہمارے ملک میں ایک مثل ہے۔اسے میں خدا تعالیٰ کی ذات پر چسپاں تو نہیں