خطبات محمود (جلد 11) — Page 313
خطبات محمود ۳۱۳ سال ۶۱۹۲۸ پس جو شخص یونہی گند بولتا ہے معلوم ہوا اس کی فطرت ماری گئی ہے۔ ایک مؤمن کو ہر بات میں تقویٰ اور اخلاق فاضلہ مد نظر رکھنے چاہئیں تاکہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو سکے اور خدا تعالٰی مل جائے۔ اور جسے خدا تعالیٰ مل جائے اسے اور کسی چیز کی حاجت باقی رہ جاتی ہے خدا تعالی کا ملنا ایسا ہے جیسے کبھی نہ ختم ہونے والا خزانہ کا ملنا۔ دیکھو اگر یہاں گاؤں والوں کو معلوم ہو کہ یہاں سے دس کوس کے فاصلہ پر ایک ایسا کنواں ہے جس میں کروڑوں روپیہ ہے تو پھیرو پیچی کے سارے لوگ اس کی طرف دوڑ پڑیں گے مگر ایک ایسا خزانہ جو کبھی نہ ختم ہونے والا ہے اس کی طرف بہت کم لوگ توجہ کرتے ہیں اور وہ خدا تعالٰی کے تعلق اور محبت کا خزانہ ہے۔ دنیوی خزانوں کی طرف لوگ دوڑتے ہیں اور غلط طور پر کسی نفع کی امید ہو تو بھی دوڑ پڑتے ہیں مگر آخرت کے خزانہ کے لئے جو یقینی طور پر مل سکتا ہے کم لوگ کوشش کرتے ہیں۔ عرب میں مشہور ہے کہ ایک نیم پاگل شخص تھا لڑ کے اسے ستاتے جب وہ بہت تنگ آجاتا تو کہتا آج فلاں امیر کے ہاں دعوت ہے وہاں جاؤ۔ لڑکے یہ سن کر دوڑ پڑتے جب لڑکے چلے جاتے تو وہ خیال کرنا ممکن ہے وہاں دعوت ہو لڑکے کھالیں اور میں محروم رہ جاؤں یہ خیال کر کے وہ خود بھی ادھر دوڑ پڑتا۔ آگے سے لڑکے مایوس ہو کر آرہے ہوتے وہ اسے پکڑ لیتے اور خوب مارتے۔ پھر وہ کہتا پہلے میں نے یونہی کہا تھا مگر فلاں امیر کے ہاں ضرور دعوت ہے وہاں جاؤ ۔ جب لڑکے ادھر جاتے تو وہ بھی ان کے پیچھے چل پڑتا اور پھر مار کھاتا۔ تو ایسے آدمی بھی ہوتے ہیں جو غلط خبر کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔ پھر ایسا عظیم الشان خزانہ جو کبھی ختم نہ ہو اور جس کا ملنا یقینی ہو اس کے لئے چھوٹی چھوٹی باتوں میں پڑ کر کوشش نہ کرنا کتنی بڑی نادانی ہے۔ دیکھو رسول کریم ال سے لوگوں نے سب کچھ چھین لیا اسی طرح صحابہ سے بھی چھین لیا مگر خدا تعالٰی کے مقابلہ میں انہوں نے کسی بات کی پروا نہ کی آخر خدا تعالیٰ نے ان کو سب کچھ دیا اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے بھی خدا تعالیٰ کے لئے سب کچھ چھوڑا اور باوجود اس کے کہ اپنے خاندان میں نصف حصہ کے مالک تھے آپ کی بھاوج جنہیں خدا تعالیٰ نے بعد میں احمدی ہونے کی توفیق دی سمجھتی تھیں کہ آپ ۔ آپ مفت خورے ہیں۔ ۔ مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو سب کچھ دیا۔ اس حالت کا نقشہ آپ نے اس طرح کھینچا ہے۔ لفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ اخْلِى وَصِرْتُ اليومَ مِطْعَامَ الْأَهَالِيُّ