خطبات محمود (جلد 11) — Page 278
: خطبات محمود ۲۷۸ سال : ۱۹۲۸ء ہے کہ آپ کی دعا ئیں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں سے بڑھی ہوئی ہوگی اور درود میں جو دعا مانگی جاتی ہے اس کا صحیح مطلب یہ ہوا۔ الہی حضرت ابراہیم نے آپ سے جو مانگا انہیں می و دعا مانگی جاتی ہے اس کا صحیح آپ نے اس سے بڑھ بڑھ کر دیا اب محمد ال نے جو مانگا انہیں بھی مانگنے سے بڑھ کر عطا کیجئے۔ دوسرے لفظوں میں اس کے یہ معنی ہوئے کہ جو کچھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ملا محمدالی کو اس سے بڑھ کر دیا جائے۔ اور وہ چیز جس کے لئے حضرت ابراہیم سے بڑھ کر رسول کریم کو دینے کی دعا کی گئی ہے یہی ہے کہ حضرت ابراہیم نے امت مسلمہ مانگی ان کی نسل میں نبوت قائم کر دی گئی۔ رسول کریم ﷺ نے اپنی امت کے لئے ان سے بڑھ کر دعا کی اس لئے آپ کی امت کو ان کی امت سے بڑھ کر نعمت دی جائے۔ اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے درود کو دیکھو تو معلوم ہو سکتا ہے کہ کتنے عظیم الشان مدارج کے حصول کے لئے اس میں دعا سکھائی گئی ہے۔ اور جب ہم درود پڑھتے ہیں تو رسول کریم پر احسان نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اپنے لئے دعا کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ اس میں رسول کریم ﷺ کی امت کی ترقی کی دعا ہے۔ اور اتنی جامع دعا ہے کہ اس سے بڑھ کر خیال میں بھی نہیں آسکتی۔ اس میں یہ سکھایا گیا کہ وہ رحمتیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ نازل ہو ئیں ان سے بڑھ کر رسول کریم ال کے ذریعہ نازل کی جائیں۔ یعنی جس طرح ان کو مانگنے سے بڑھ کر دیا گیا۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ نے جو کچھ مانگا اس سے بڑھ کر دیا جائے۔ چونکہ وسعتِ فیض کے لحاظ سے رسول کریم ﷺ کی دعا ئیں بڑھی ہوئی تھیں اس لئے ان سے بڑھ کر دینے کا یہ مطلب ہوا کہ آپ کی شان سب سے بڑھی ہوئی تھی۔ دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواہش کی کہ ایک بچہ ملے جو نسل چلائے مگر خدا تعالیٰ نے اس کے مقابلہ میں فرمایا میں تیری نسل کو اتنا بڑھاؤں گا کہ جس طرح آسمان کے ستارے گئے نہیں جاتے اسی طرح وہ بھی گئی نہ جائے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا رسول کریم ﷺ نے ایک بچہ نہ مانگا بلکہ یہ فرمایا اني مُكَاثِرُ بِكُمُ الْأُمَمَ کہ میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کرونگا اس وجہ سے خدا تعالٰی نے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی زیادہ امت دی۔ پس درود کی دعا کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم کی دعا ئیں ان کی امت کے متعلق اس سے بڑھ کر قبول ہوئیں جس قدر کہ کی گئی تھیں اسی طرح امت محمدیہ کو کیفیت اور کمیت کے لحاظ ۔ سے ان دعاؤں سے بڑھ بڑھ کر دیا جائے جو رسول کریم ال نے کی ہیں۔