خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 277

خطبات محمود ۲۷۷ سال ۶۱۹۲۸ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بڑھ کر تھے ورنہ آپ خاتم البین اور سید ولد آدم نہیں ہو سکتے۔ مگر ایک چیز حضرت ابراہیم میں ایسی پائی جاتی ہے جو ان کی ذاتی خوبی نہیں بلکہ ان کی قوم کی جوان کی ذاتی خوبی نہیں بلکہ ان کی فضیلت ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالی فرماتا ہے۔ وَ جَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوا کہ ہم نے ابراہیم کو ہی نبوت نہیں دی تھی بلکہ اس کی ذریت کو بھی بڑا درجہ دیا تھا اس میں نبوت رکھ دی تھی۔ یہ وہ فضیلت ہے جو حضرت ابراہیم کی نسل کو خاص طور پر حاصل ہوئی کہ اس میں نبوت رکھی گئی اس کے ساتھ ہی ہم ایک اور بات دیکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالی سے دعا مانگی ہے کہ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةٌ لَّكَ (البقرہ : ۱۲۹) کہ میرے اور اسمعیل کی اولاد سے امت مسلمہ پیدا کر دے۔ اب دیکھو حضرت ابراہیم تو یہ دعا مانگتے ہیں کہ ان کو امت مسلمہ ملے مگر خدا تعالٰی اس دعا کو اس رنگ میں قبول کرتا ہے کہ ہم عیوں کی جماعت پیدا کریں گے۔ گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالی سے جو مانگا اس سے بڑھ کر خدا تعالٰی نے دیا۔ اس سے کیا معلوم ہوتا ہے یہ کہ خدا تعالی کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ سلوک تھا کہ آپ نے جو مانگا خدا تعالٰی نے اس سے بڑھ کر دیا۔ سوائے اس کے جو اس کی سنت اور قضاء کے مقابلہ میں آکر ٹکرانے والا تھا ایسے موقع پر بے شک انکار کر دیا۔ ورنہ ان سے یہ معاملہ ہوا کہ انہوں نے مانگے مسلم اور خدا تعالی نے دیئے ہیں۔ اب ہیں بات رسول کریم کے متعلق سمجھو اور درود کے یہ معنی کرو کہ خدایا جو معاملہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا وہی محمد سے کرنا۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو مانگا اس سے بڑھ کر ان کو دیا اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ نے جو مانگا اس سے بڑھ کر دینا۔ اب درجہ کے لحاظ سے فرق یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے عرفان کے مطابق اللہ تعالٰی سے دعائیں کیں اور رسول کریم ﷺ نے اپنے عرفان کے مطابق کیونکہ جتنی جتنی معرفت ہوتی ہے اس کے مطابق مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ایک چھوٹا بچہ ” چھیجی " مانگتا ہے لیکن جب ذرا بڑا ہوتا ہے تو مٹھائی مانگنے لگتا ہے۔ جب جوان ہونے پر آتا ہے تو اچھے کپڑے طلب کرتا ہے جوان ہو کر یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ماں باپ اس کی کسی اچھی جگہ شادی کریں۔ پھر یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اسے جاندار کا حصہ دے دیا جائے ۔ غرض جوں جوں عرفان بڑھتا ہے مطالبہ بھی بڑھتا جاتا ہے۔ اسی طرح جتنا کسی کا خدا تعالیٰ کے متعلق عرفان ہوتا ہے اس کے مطابق وہ دعا کرتا ہے۔ جب رسول کریم عرفان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بڑھے ہوئے تھے تو یقینی بات