خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 258

خطبات محمود ۲۵۸ ۳۴ سال 1927ء عظیم الشان اجتماع کے لیے تیاری فرموده ۲۳ دسمبر۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: مومن انسان ہر ایک بات سے سبق حاصل کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور قدرتوں کو ہر ایک چیز میں دیکھتا ہے۔اور اس بات کو خوب سمجھتا ہے کہ دنیا میں کوئی چیز لغو نہیں ہے۔اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ انسانوں کے لئے نشانات مقرر کئے گئے ہیں۔جدھر بھی انسان جاتا ہے وہاں ہدایت اور بصیرت کے لئے ایسے نشانات موجود ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر فائدہ اور عبرت حاصل کر سکتا ہے۔لیکن بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ان نشانات کو دیکھتے ہیں مگر ان سے کچھ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ایک چیز ان کے سامنے موجود ہوتی ہے لیکن اس کی طرف توجہ نہیں کرتے رسول کریم اے کا طریق تھا کہ آپ ہر جگہ اور ہر موقعہ سے اس کے مطابق عبرت حاصل کرتے اور صحابہ کو اس طرف توجہ دلاتے۔ایک دفعہ جنگ کے لئے جارہے تھے کہ رستہ میں ایک ایسی قوم کے کھنڈر پڑے جس پر خدا تعالٰی کا عذاب نازل ہوا تھا۔رسول کریم نے دیکھا لوگ اس جگہ آرام سے بیٹھے اور کھانے پکانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ان کھنڈرات کو دیکھ کر آپ پر گہرا اثر ہوا۔اور آپ نے صحابہ سے فرمایا یہاں خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا ہے یہاں سے خشیت پیدا ہونی چاہئے۔اور فرمایا یہاں سے جلدی سامان اٹھا لو اور نکل چلو۔اس وقت جو لوگ آئے میں پانی ڈال چکے تھے انہیں فرمایا آٹا پھینک دو غرض اس جگہ سے آپ نے جلدی چلنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا جہاں خدا کا عذاب نازل ہوا ہو وہاں نہیں ٹھرنا چاہئے۔خدا کا عذاب صرف اسی خاص جگہ نازل نہیں ہو ا تھا۔ہر جگہ اور ہر بستی میں ایسے مقام نظر آسکتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے غضب کے مورد ہو چکے ہیں۔کئی گھر ایک جگہ ایسے آباد نظر آتے ہیں کہ سارا گاؤں یا