خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 20

: سال 1927ء خطبات محمود وقت آیت الکرسی سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس جو قرآن کریم کی آخری سورتیں ہیں تین دفعہ پڑھ کر ہا تھوں پر پھو سکتے اور پھر ہاتھ اپنے جسم پر پھیرا کرتے تھے۔ آپ ہاتھوں پر پھونک کر پر تھے۔ پر ہاتھوں کو جسم پر اس طرح پھیرتے کہ سر سے شروع کرتے ۔ اور جہاں تک ہاتھ پہنچ سکتے وہاں تک پھیرتے۔ یہ آنحضرت اللہ کی سنت ہے جس کام کو آپ نے دینی کام سمجھ کر باقاعدہ اور ہمیشہ جاری رکھا۔ اسے سنت کہتے ہیں۔ چونکہ یہ ذکر بھی آپ ہمیشہ کیا کرتے تھے۔ اس لئے اس سنت کی پابندی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ بعض نادان صرف اس نیکی کو ضروری سمجھتے ہیں جس کے بغیر انسان سیدھا جہنم میں چلا جائے۔ حالانکہ انسان کی طرف تو کسی عیب کا منسوب ہونا بھی بڑی بات ہوتی ہے۔ ایک دفعہ ایک بڑے آدمی نے حضرت خلیفہ اول کے سامنے کہا اگر ہم جنم میں بھی گئے تو آخر جنت میں ہی چلے جائیں گے ۔ پھر کیوں نہ دنیا میں عیش و عشرت کریں ہم یہاں بھی عیش و عشرت کرتے ہیں اور وہاں بھی کریں گے۔ کیونکہ آخر کار جنت میں چلے جائیں گے اور دونوں جہان میں مزے اڑائیں گے۔ حضرت خلیفہ اول اسے فرمانے لگے۔ میں ایک عرض کرنا چاہتا ہوں آپ ناراض تو نہ ہوں گے۔ اس نے کہا نا راضی کی کیا بات ہے۔ آپ فرمائیں۔ آپ نے کہا یہ دس روپے آپ لے لیں یہ بازار ہے میں یہاں آپ کو دو جوتیاں لگانا چاہتا ہوں۔ یہ سن کر اس کا چہرہ غضب سے سرخ ہو گیا اور کہنے لگا۔ میں آگے ہی جانتا ہوں۔ مولوی بڑے بد تہذیب ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا آپ یہاں چند آدمیوں کے سامنے تو روپیہ لے کر جوتے کا نام بھی نہیں سن سکتے۔ پھر وہاں جہاں ہزاروں لاکھوں اگلے پچھلے لوگ جمع ہوں گے آپ اپنی ذلت کیسے برداشت کر لیں گے غرض یہ بڑی گندی فطرت کی علامت ہے کہ انسان صرف اسی عمل سے بچے جو سیدھا اسے جہنم میں لے جائے۔ اور اسی کام کو ضروری سمجھے جس کے بغیر وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ اس کے سوا کوئی نیکی کا کام نہ کرے۔ پس ذکر کو بھی یہ خیال کر کے نہیں چھوڑنا چاہئے کہ یہ ایسا ضروری نہیں جس کے نہ کرنے سے جہنم میں چلے جائیں گے اور نہ یہ خیال کرنا چاہئے کہ صرف میں ذکر جنت میں جانے کے لئے کافی ہے۔ اور اس کے ساتھ اور اعمال کی ضرورت نہیں جب نبی کریم اللہ جیسا انسان اپنی ترقیات کے لئے ان اذکار کا محتاج تھا تو تم کیونکر کہہ سکتے ہو کہ ہمیں ایسے اذکار کی ضرورت نہیں۔ آنحضرت کی یہ سنت تھی۔ کہ آپ ہمیشہ سوتے وقت آیت الکرسی اور تینوں قل تین دفعہ پڑھتے اور