خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 253

کے خطبات محمود ۲۵۳ سال 1927ء کریں گی۔کیونکہ اگر آپ کی اولاد سے کسی نے خلیفہ نہیں ہو نا تھا تو تائی کالفظ فضول تھا۔اس الہام میں دراصل تین پیشگوئیاں ہیں۔اول یہ کہ حضرت مسیح موعود کی اولاد میں سے خلیفہ ہو گا۔دوم یہ کہ اس وقت تائی صاحبہ جماعت میں شامل ہوں گی۔تیرے تائی صاحبہ کی عمر کے متعلق پیشگوئی تھی۔اور وہ اس طرح کہ حضرت مسیح موعود جن کی اپنی عمر اس وقت ۷۰ سال کے قریب تھی ایک ایسی عورت کے متعلق پیشگوئی کرتے ہیں جو اس وقت بھی عمر میں ان سے بڑی تھی کہ وہ زندہ رہے گی اور آپ کی اولاد سے ایک خلیفہ ہو گا جس کی بیعت میں شامل ہو گی۔اتنی لمبی عمر کا ملنا بہت بڑی بات ہے۔انسانی دماغ کسی جو ان کے متعلق بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ فلاں وقت تک زندہ رہے گا۔چہ جائیکہ بوڑھے کے متعلق کہا جائے۔پس یہ ایک بہت بڑا نشان ہے۔گویا ان کا بیعت کرنا اور میرے زمانہ میں کرنا پھر حضرت مسیح موعود کے بیٹوں میں سے خلیفہ ہو نا کئی ایک پیشگوئیاں ہیں جو دو لفظوں میں بیان ہوئی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جس قسم کی روایات اور احساسات پرانے خاندانوں میں پائے جاتے ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ عظیم الشان تغیر ہے کہ تائی صاحبہ نے بیعت میں شامل ہونے کے بعد وصیت بھی کر دی تھی۔پہلے تو وہ اس کی بھی مخالف تھیں کہ حضرت مسیح موعود کو آبائی قبرستان کی بجائے دوسری جگہ دفن کیا جائے۔چنانچہ انہوں نے اس وقت کہلا بھی بھیجا کہ آپ کو جدی قبرستان کی بجائے دوسری جگہ دفن نہ کیا جائے کیونکہ یہ ایک بنک ہے۔اور بعد میں بھی کئی سال تک اس پر معترض رہیں۔مگر پھر ان کی یہ حالت ہو گئی کہ خود وصیت کی اور مقبرہ بہشتی میں دفن ہوئیں۔ایک سمجھدار انسان کے لئے یہ بہت بڑا نشان ہے۔ظاہر میں تو یہ معمولی بات ہے جو ایک شخص کے متعلق ہے مگر اس میں صداقت کے ثبوت کے کئی ایک پہلو ہیں۔اور جیسا کہ حضرت صاحب نے فرمایا۔کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے اکثر لوگ نشانات سے آنکھیں بند کر کے گزر جاتے ہیں۔یہاں تک کہ خد اتعالیٰ کی طرف سے ان کی ہدایت کا وقت آجائے۔غرض کہ سوچنے والے کے لئے اس میں بہت بڑا ثبوت ہے۔وہ لوگ جو مانتے نہیں ان کا غور نہ کرنا تو عجیب بات نہیں۔مگر مان کر غور نہ کرنے والوں کی حالت زیادہ افسوس ناک ہے۔اگر ماننے والے ان نشانات میں غور کریں۔تو ان کے اندر ایک عظیم الشان تبدیلی پیدا ہو جائے۔خدا تعالیٰ کی تائیدیں اور نصرتیں ان کو حاصل ہوں۔اور وہ اپنی موجودہ قربانیوں پر غور کر کے شرمندہ ہوں کہ ان کو بہت آگے بڑھنا چاہئے تھا۔اور وہ مقام جہاں کھڑے