خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 252

سال 1927ء ۲۵۲ خطبات محمود یہ احساس قدرتی طور پر ہوتا ہے۔ اس لئے وہ حضرت مسیح موعود کو اپنا دست نگر تصور کرتی تھیں۔ حضرت مسیح موعود اپنے ایک عربی شعر میں فرماتے ہیں۔ لفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أُكْلِى وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْأَهَالِي اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک زمانہ تھا جب میں دوسروں کے ٹکڑوں پر بسر اوقات کرتا تھا مگر اب خدا نے مجھے ایسی شان عطا کی ہے کہ ہزاروں ہیں جو میرے دستر خوان سے سیر ہوتے ہیں۔ اس شعر میں اس واقعہ کی طرف بھی اشارہ ہے کہ حضرت اقدس کی جائداد علیحدہ نہیں تھی۔ بھائی کے ہی سپرد تھی۔ اور آپ میں اس کے سنبھالنے کا احساس بھی نہیں تھا چنانچہ آپ کے والد بھی کہا کرتے تھے کہ یہ جائداد نہیں سنبھال سکے گا۔ پس اندریں حالات تائی صاحبہ کا ایمان لانا بڑا مشکل امر تھا۔ دلیل اور مذہبی پہلو سے نہیں بلکہ خاندانی لحاظ سے۔ کیونکہ ان کے نزدیک دونوں کی حیثیت مالک و نوکر کی تھی۔ وہ آپ کو ایک غریب آدمی سمجھتی تھیں جو کام وغیرہ کچھ نہیں کرتا تھا اور ان کے ٹکڑوں پر پلا تھا۔ ان حالات میں وہ کبھی گوارا نہ کر سکتی تھیں کہ آپ ان کی بہن کی لڑکی کے ساتھ نکاح کرنے میں کامیاب ہو جائیں وہ چونکہ سب سے بڑی تھیں اس لئے خصوصیت کے ساتھ مخالف تھیں۔ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کی مخالفت بہت زیادہ تھی۔ رشتہ داروں نے آپ سے ملنا ترک کر دیا تھا اور آپ بھی ان سے نہیں ملتے تھے۔ بلکہ خاندان والوں کی مخالفت کا یہ عالم تھا کہ والدہ صاحبہ سناتی ہیں۔ حضرت صاحب کے ننھیال میں ایک بڑی عمر کی عورت تھیں۔ وہ بین ڈالا کرتی تھیں کہ چراغ بی بی کے لڑکے کو کوئی دیکھنے بھی نہیں دیتا۔ حضرت مسیح موعود کو چور اور ڈاکووں کی طرح علیحدہ رکھا جاتا تھا۔ کیونکہ ان کو خاندانی عزت کو بٹہ لگانے والا سمجھا جاتا تھا۔ ان حالات میں یہ قیاس کرنا کہ تائی احمدی ہو جائے گی بظاہر ایک غیر معمولی بات تھی۔ انسان کا دل بدل سکتا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ حالات کیا کہتے ہیں ؟ ایسے وقت میں آپ کو الہام ہوا تائی آئی “ تائی صاحبہ حضرت صاحب کی بھارج تھیں۔ اس لئے ان الفاظ سے یہ ن الفاظ سے یہ مراد تھی کہ آپ اس وقت بیعت کریں گی جس وقت بیعت لینے والے سے ان کا تعلق " تائی" کا ہو گا۔ اگر انہوں نے حضرت مسیح عود کی بیعت کرنی ہوتی۔ الہام کے یہ الفاظ ہوتے "بھاوج " "بھاوج آئی " اور اگر حضرت خلیفہ اول کے عہد میں بیعت ہوتی تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ مسیح موعود کے خاندان کی ایک عورت آئی مگر تائی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا لڑکا جب آپ کا خلیفہ ہو گا تو اس کے ہاتھ پر بیعت