خطبات محمود (جلد 11) — Page 16
خطبات محمود 14 سال 1927ء ہے۔اور ایسا ہی ہونا چاہئے تھا اور مجرم سے ہمدردی کا اظہار کریں تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ اخلاقی بدیاں پھیلیں گی۔اور ایسے فعل پر اور بھی لوگوں کو جرات ہو گی حالانکہ اس موقع پر سب سے زیادہ اس بات پر زور دینا چاہئے کہ قاتل نے بہت برا فعل کیا ہے اور اسلام کی تعلیم کے خلاف کیا ہے۔اگر قاتل کو (جو کوئی بھی ہو) معمولی ہمدردی کا بھی علم ہوا تو اس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ ہمارے اخلاق خراب ہوں گے۔ہماری قوم میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کے نزدیک انسان کی جان کی کوئی قدر و قیمت نہ رہے گی۔پس اپنی قوم سے ہمدردی اور احسان کرنے کے لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس فعل کو بر قرار دیں تاکہ آئندہ اور کسی کو ہم میں سے ایسے فعل پر جرات نہ ہو۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس فعل کے بعد آریوں کا جو رویہ ہے اس میں وہ غلطی کر رہے ہیں۔باوجود اس کے کہ تمام عالم اسلام نے اس فعل پر نفرت کا اظہار کیا ہے اور ہر ایک مسلمان لیڈر نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے پھر بھی آریہ لوگ اسلام پر حملے کر رہے ہیں اور ملک کے امن کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔جب ہم بار بار کہتے ہیں کہ اسلام کی ہر گز یہ تعلیم نہیں تاکہ مسلمانوں کے دلوں سے بھی پرانے خیالات دور ہو جائیں۔اور ادھر آریہ شور ڈال رہے ہیں کہ نہیں اسلام کی یہی تعلیم ہے۔کہ کافر کو ضرور قتل کیا جائے۔تو گویا آریہ خود قتل پر مسلمانوں کو اکساتے ہیں۔اور ان کو بتاتے ہیں کہ تمہارے مذہب کی یہی تعلیم ہے۔جب عوام کو یہ معلوم ہو گا کہ ہمارے مذہب کی یہی تعلیم ہے۔تو وہ اس پر ضرور عمل کریں گے۔نتیجہ یہ ہو گا کہ امن برباد ہو گا۔اس لئے اب اگر آئندہ اور اس قسم کے واقعات ہوئے تو اس کے ذمہ دار مسلمان نہیں ہوں گے اور نہ اسلام ذمہ دار ہو گا۔بلکہ وہ آریہ اور عیسائی ہی ذمہ دار ہوں گے جو اسلام کی طرف ایسی تعلیم کو منسوب کرتے ہیں اور مسلمانوں کو اپنی منسوب کردہ تعلیم پر عمل کرنے کے لئے تحریک کرتے ہیں۔اسلام تو یہ کہتا ہے کہ اگر تمہارے سامنے مجرم آبھی جائے تب بھی تم خود اسے سزا نہیں دے سکتے وہ کسی شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا۔بلکہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے کو ویسا ہی مجرم قرار دیتا ہے جیسا اور مجرم ہوتا ہے۔پھر بھی اگر آریہ یہی کہتے چلے جائیں گے کہ اسلام ایسے افعال کی تعلیم دیتا ہے تو کیا اس کا یہ نتیجہ نہ ہو گا کہ جاہل مسلمان کہیں گے کہ واقعی اسلام کی یہی تعلیم ہے جو آریہ بتا رہے ہیں کہ کافروں کو مارو۔یہ علماء تو ڈر کے مارے اس کے خلاف کہتے ہیں۔باوجود کھلے مضامین کے کہ اسلام کی یہ تعلیم نہیں۔یہی زور دینا کہ اسلام کی تعلیم