خطبات محمود (جلد 11) — Page 206
سال 1927ء ۲۰۶ خطبات محمود میں چھڑی رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا جب گھر سے باہر نکلو کوٹ پہن کر نکلو صرف کرتا پہن کر نہ نکلو اور سونٹا ہاتھ میں رکھو۔ پھر جب بھی حضرت صاحب خود باہر جاتے ہمیشہ سونا ہاتھ میں رکھتے۔ حضرت صاحب سے زیادہ لڑائی جھگڑے سے بچنے والا اور کون ہو سکتا ہے۔ آپ کا تو آپ کا تو نام ہی امن کا شہزادہ تھا۔ اور آپ کے زمانہ کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ لڑائی مٹائی جائے گی۔ آپ چھڑی رکھتے تھے۔ مگر بعض نادان کہتے ہیں سونٹا رکھنے کی تحریک کرنا لڑائی کی تعلیم دینا ہے۔ اور وہ سونٹا پکڑتے ہوئے شرماتے ہیں۔ حالانکہ جس کے وہ مرید کہلاتے ہیں۔ اور جس کی پیروی میں نجات سمجھتے ہیں۔ اور جسے ہدایت کا سر چشمہ قرار دیتے ہیں۔ اس کے متعلق کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کبھی بغیر سونٹا لئے گھر سے نکلا ہو۔ پھر آپ کا سونٹا زینت کا سونٹانہ ہوتا تھا کہ پتلی سی چھڑی ہو ۔ بلکہ کار آمد سونا ہو تا تھا اپنے ہاتھ چھڑی دکھا کر) میں نہیں سمجھتا کبھی اس سے کم کسی نے آپ کے ہاتھ میں سونٹا دیکھا ہو۔ اتنا یا اس سے موٹا ہوتا تھا۔ میں نے آپ کے کہنے پر چھڑی رکھنی شروع کی اور اب اگر کسی وجہ سے بغیر چھڑی کے نکلوں تو گھبراہٹ اور بے چینی سی محسوس ہوتی ہے۔ مگر میں نے اس تحریک کے متعلق دیکھا ہے کہ بعض دوستوں نے تو توجہ کی مگر بہتوں نے نہیں کی۔ انہوں نے سمجھا یہ کرپان کے جواب میں کہا گیا ہے مگر ہمیں کر پان کا جواب دینے کی کیا ضرورت ہے۔ جب تک سکھ کر پان نیام میں رکھتے ہیں۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ اس کا جواب دیں۔ میں نے تو محض اس لئے تحریک کی تھی کہ اس طرح قدرتی طور پر جرات اور دلیری پیدا ہوتی ہے۔ مگر میں نے دیکھا ہے شروع شروع میں قادیان میں ساٹھ فی صدی لوگوں نے سونٹا رکھنا شروع کر دیا تھا۔ اور اب آکر دیکھا۔ تو تین چار فی صدی رہ گیا ہے۔ اب بھلا سونٹے چھوڑ تلواریں اور بندوقیں بھی لئے پھر و تو مہینہ ڈیڑھ مہینہ میں کیا تغیر پیدا ہو سکتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں اگر کسی سے توپ اٹھائی جاسکے تو وہ توپ بھی اٹھا لے۔ اور سارے جنگ کے سامان اپنے اوپر لاد لے تو بھی اس طریق سے کوئی تغیر نہیں پیدا ہو سکتا۔ اس کے مقابلہ میں اگر معمولی چھڑی بھی پانچ چھ سال رکھو تو آہستہ آہستہ جرات اور دلیری کے جذبات پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے۔ اسی طرح تمدنی اصلاح کے متعلق جو تحریک کی گئی ہے ہر جگہ اس پر جوش دکھایا گیا ہے۔ مگر اب بعض جگہ سے رپورٹیں آرہی ہیں کہ لوگ ست ہو رہے ہیں۔ میں نے جہاں تک غور کیا ہے مسلمانوں کی تباہی کا باعث ہی یہ ہے کہ ان میں استقلال نہیں رہا۔ اور انہوں نے رسول کریم ال کی اس بات کو بھلا دیا ہے کہ بہتر عبادت رہی ہے جس پر دوام اختیار کیا جاسکے ۔ کسی عبادت پر جتنا زیادہ دوام اختیار کیا جاسکے اتنی ہی وہ بہتر