خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 15

خطبات محمود ۱۵ سال 1927ء تصرف گناہوں کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔انسان بہت سے گناہ کرتا ہے جس کے نتیجہ میں اور گناہ سرزد ہوتے ہیں۔مثلاً شرابی کو پہلی بار شراب کے نتیجہ میں اور بھی شراب پینی پڑے گی۔اسی طرح چور کو چوری کی عادت بار بار مجبور کرے گی۔جھوٹ بولنے والے کو جھوٹ بولنا پڑے گا۔آج جس سے شراب خوری کا گناہ سرزد ہوتا ہے۔اگر پہلی بار شراب نہ پیتا تو آج بھی وہ شراب پینے پر مجبور نہ ہوتا۔چور اگر پہلی دفعہ ہی چوری سے بچ جاتا تو آج اسے چوری کا خیال نہ آتا۔تو کئی گناہ ہیں جو پہلے گناہ کے نتیجہ میں ہوتے ہیں۔ہاں یہ عادتیں فرشتوں کے تصرف کے ماتحت ہوتی ہیں۔پس شردھانند صاحب کے قاتل سے جو قتل کا فعل ہوا ہے وہ ان معتقدات و حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو بیان کئے گئے ہیں اس کے پہلے گناہوں اور اندرونی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔اور وہ ویسا ہی زیر الزام ہے جیسے دنیا میں اور مجرم ہیں جن سے پہلے گناہوں کے نتیجہ میں بعض گناہ سرزد ہوتے ہیں۔پھر پیشگوئیاں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک وہ پیش گوئی ہوتی ہے جس میں خدا تعالی خبر دیتا ہے کہ میں یہ کروں گا۔میں حکم دیگر یوں کرواؤں گا۔اور ایک وہ پیشگوئی ہوتی ہے جس میں یہ خبر دیتا ہے کہ تم یوں کرو گے یعنی جو کام ہم نے آئندہ زمانہ میں کرنا تھا اس کے متعلق ہمیں پہلے سے خبر دے دیتا ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔بلکہ اپنے اختیار سے ایسا کریں گے اب شردھانند صاحب کے قتل کے متعلق جو پیشگوئی ہے۔ہو سکتا ہے کہ اس میں خدا نے اس لئے خبر دی ہو کہ وہ شخص اپنے اس فعل سے دو قوموں کے اندر دشمنی ڈلوادیگا۔اور ان کو آپس میں لڑا دیگا اس لئے اس خصوصیت کی وجہ سے اس کے بارے میں خبر دیدی اخلاقی طور پر یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ کبھی خدا جبرا کوئی ایسا فعل نہیں کراتا جو اس کی شریعت کے خلاف ہو۔اگر یہ عقیدہ رکھا جائے تو دنیا سے امن اٹھ جائے گا اب تو انگریزی گورنمنٹ ہے۔اگر اسلامی گورنمنٹ ہو اور ہمارا یہ عقیدہ ہو کہ جو جرائم دنیا میں ہوتے ہیں وہ جبرا اللہ تعالٰی کراتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ ہم کسی مجرم کو سزا نہ دیں۔اور اگر ہم سزا دیں تو پھر ہم گنگار ٹھہریں گے کہ جو کام اللہ تعالٰی نے کرایا ہے ہم اس کی ہتک کرتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں دنیا سے امن بالکل اٹھ جائے گا۔پس حقیقت یہی ہے کہ یہ قتل ہمارے نزدیک اور خدا کے نزدیک بھی جرم ہے۔اور ہر وہ شخص جو جرم کی اہمیت میں کمی کرنا چاہتا ہے میرے نزدیک وہ اخلاق پر تب رکھتا ہے۔مذہب کی پہلی غرض اخلاق کی اصلاح ہے۔اگر کوئی مذہب بد اخلاقی کی تعلیم دیتا ہے تو وہ اپنی تعلیم پر کلہاڑا مار تا ہے۔ہم اگر کہیں کہ یہ قتل آریوں کی اسلام کے خلاف اشتعال انگیز تقریروں اور تحریروں کا نتیجہ