خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 189

خطبات محمود سال 1927ء دنیا کو یا کم از کم ہندوستان کے لوگوں کو سوچنا پڑیگا کہ اس فتنہ کے دور کرنے کے ذرائع کیا ہیں۔یہ قدرتی بات ہے کہ جب ایک قوم کو دوسری قوم سے اپنے افعال کی وجہ سے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے تو خواہ دیانتداری سے یا بد دیانتی سے سچائی پر اپنی آواز کو مینی کر کے یا قریب سے مدد لیتے ہوئے وہ قوم ایک رنگ میں ندامت کا اظہار کرتی ہے۔بسا اوقات اس ندامت کے اظہار میں منصوبہ اور مکر پوشیدہ ہو تا ہے۔اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو صلح کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہے اس لئے نہیں بڑھا تا کہ صلح کرنا چاہتا ہے بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ میں نے مناسب موقع نہ دیکھا تھا جس وقت کہ جنگ کی بنیاد رکھی۔اب مجھے دوسرے وقت کا انتظار کرنا چاہئے۔اور اس وقت صلح کر کے اپنا پیچھا چھڑانا چاہئے۔ایسے وقت میں صلح کے لئے جو کچھ وہ کہتا ہے وہ صرف الفاظ ہوتے ہیں۔جو حقیقت سے خالی ہوتے ہیں۔اور خالی الفاظ کی صلح پر قوم کی زندگی کی بنیاد قائم نہیں کی جاسکتی۔پس صلح کے متعلق جب سوال اٹھایا جائے تو اس پر بہت احتیاط سے غور کرنے کی ضرورت ہے اس وقت جب کہ ہندوؤں میں یہ احساس پیدا ہو۔کہ انہوں نے بانی اسلام اللہ کی شان میں گستاخی کرنے میں غلطی کی ہے اور وہ ظاہر کریں کہ صلح پر آمادہ ہیں تو اسلام کی تعلیم تقاضا کرے گی کہ مسلمان اس آمادگی پر نفرت کا اظہار نہ کریں بلکہ خود بھی آمادگی کا اظہار کریں۔چونکہ جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ جلد یا بدیر وہ وقت آنے والا ہے جب صلح کا سوال پیدا ہو گا۔اس لئے ہمیں پہلے سے سوچنا چاہئے کہ ایسے موقع پر کن شرائط سے ہمیں صلح کرنی چاہئے۔اور کیسی صلح سے اجتناب کرنا چاہئے۔بہت سے کمزور طبع انسان جو محض جھگڑے کو دیکھ کر دشمن کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔جب دیکھتے ہیں دشمن صلح کے لئے کہتا ہے تو کہہ دیتے ہیں اب جھگڑے کی کیا بات ہے۔صلح کر کے جھگڑا ختم کرنا چاہئے۔لیکن یہ امر ان لوگوں کی بزدلی پر دلالت کرتا ہے نہ کہ جرات پر۔یہ اس امر پر دلالت نہیں کر تاکہ ان کے اخلاق اعلیٰ ہیں بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں ہمت کی کمی ہے جو لوگ دین کی باتوں کو محض الفاظ کی صلح پر قربان کر کے صلح کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں وہ بیوقوف ہوتے ہیں۔دیکھو بنو نضیر نے جب رسول کریم ای کے حملے کے وقت محسوس کیا کہ آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اور ان کی یہ امیدیں پاش پاش ہو گئیں کہ منافق مدد کریں گے تو انہوں نے فور کہلا بھیجا کہ ہم اپنے کئے پر نادم ہیں اور اپنی غلطی کا اقرار کرتے ہیں ہم سے صلح کرلی جائے۔اس وقت رسول کریم ﷺ نے یہ نہ فرمایا کہ اچھا تم نے اپنی غلطی تسلیم کرلی ہم تم سے صلح کرتے