خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 181

سال 1927ء ۱۸۱ خطبات محمود ہو جائیں گے مگر مسلمانوں کی یہ حالت تو کل کا نتیجہ نہیں بلکہ امید کے فقدان کا نتیجہ ہے جب کسی قوم کے دل سے امید مٹ جاتی ہے تو وہ ہر کام اور ہر فعل میں ست اور غافل ہو جاتی ہے۔ ورنہ توکل کے ذریعہ تو امید پیدا ہوتی ہے کیونکہ اس کے معنی ہیں ایک ایسی ہستی جو ہمارے تمام کام کر سکتی ہے اس کے سپرد ہم نے اپنے کام کر دیتے ہیں۔ اب بتاؤ جس کا کام کسی بڑے با اثر اور بار سوخ انسان کے سپرد ہو جائے وہ خوش ہوا کرتا ہے یا رونا شروع کر دیتا ہے۔ مثلاً کسی پر مقدمہ ہو اور وہ اپنے مقدمہ میں سب سے بڑا اور مشہور وکیل کر لینے میں کامیاب ہو جائے تو اس کے چہرہ پر خوشی اور بشاشت کے آثار نمایاں ہونگے یا مردنی چھا جائے گی۔ گو ضروری نہیں کہ اعلیٰ درجہ کا وکیل کر لینے کی وجہ سے اسے مقدمہ میں ضرور کامیابی حاصل ہو جائے۔ کیونکہ اعلیٰ سے اعلیٰ وکیل بھی مقدمے ہار جاتے ہیں۔ مگر کسی قابل وکیل کی خدمات کا حاصل ہو جانا ہی بڑی خوشی اور اطمینان کا موجب ہو جاتا ہے۔ اور ایسا شخص خوش اور بشاش نظر آتا ہے۔ یا مثلا کسی کے گھر ایسا مریض پڑا ہو۔ جس پر نا امیدی اور مایوسی چھائی ہوئی ہو وہاں ملک کا بہترین ڈاکٹر آجائے اور مریض کے لواحقین اس کی خدمات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ تو اس مریض کو خوشی ہو گی یادہ غم میں ڈوب جائے گا۔ یقیناً اس کے چہرہ سے خوشی کے آثار ظاہر ہونگے۔ یہ پتہ نہیں کہ مریض اس کے علاج سے اچھا ہو یا نہ ہو۔ مگر یہ خیال کہ کامیاب ڈاکٹر اس کا علاج کرے گا۔ اسی سے اس کے چہرہ پر بشاشت آجائے گی۔ ہم نے تو دیکھا ہے اگر مرتے ہوئے مریض کے پاس بھی اعلیٰ درجہ کا طبیب آجائے تو اس کے چہرہ پر رونق آجاتی ہے۔ اور اس کے لواحقین بڑے تپاک سے ایسے ڈاکٹر کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ پس ایک مرتے ہوئے مریض کو لائق ڈاکٹر کے سپرد کرنے پر اور ایک شکست کھا جانے والے مقدمہ کے لئے اعلیٰ درجہ کے وکیل کی خدمات حاصل ہو جانے پر انسان خوش ہوا کرتا ہے۔ یا اس کے چہرہ پر مایوسی دوڑ جاتی ہے۔ اگر خوش ہوا کرتا ہے تو پھر کیا یہ ممکن ہے۔ کہ ایک خدا جس میں سب طاقتیں پائی جاتی ہیں جو انسان کی ہر تکلیف کو دور کر سکتا ہے۔ جو ہر مصیبت کے وقت کام آسکتا ہے۔ اس کے سپرد ہم اپنے کام کریں۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہو کہ ہمارے چہروں پر مردنی چھا جائے۔ اور ہم نا امید اور مایوس ہو کر بیٹھ جائیں۔ یہ بالکل ناممکن ہے اگر واقعہ میں توکل کے معنی اپنے ہر ایک کام کو خدا تعالیٰ کے سپرد کرنا ہے۔ اور واقعہ میں ہمارا اعتقاد ہے کہ خدا ہے اور اس کے سپرد ہم نے کام کر دیا ہے ۔ تو یقیناً ہمیں خوش ہونا چاہئے۔ اور ہمارے چہروں پر بشاشت جھلکنی چاہئے۔ اگر اچھا ڈاکٹر مل جانے پر اور اعلیٰ وکیل کی خدمات حاصل ہو جانے پر لوگ