خطبات محمود (جلد 11) — Page 175
خطبات محمود 140 سال 1927ء جملہ میں رسول کریم ای کی اور زیادہ ہتک ہے۔کیونکہ کتاب "رنگیلا رسول " شائع کرنے والے نے جو کچھ لکھا اپنی طرف سے لکھا۔اور جو ناپاک کلمات کے اپنی طرف سے کے۔لیکن " پر تاپ" یہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کے اپنے دل بھی مانتے ہیں کہ ان کے رسول کی زندگی میں ایسے نقص پائے جاتے ہیں۔جن کی وجہ سے جائز طور پر نکتہ چینی کی جا سکتی ہے۔گویا کتاب "رنگیلا رسول" شائع کرنے والا تو یہ لکھتا ہے کہ اس کے اپنے نزدیک یہ یہ نقص آپ میں پائے جاتے ہیں۔مگر " پر تاپ یہ کہتا ہے کہ مسلمان خود بھی مانتے ہیں۔کہ ان کے رسول میں نقص پائے جاتے ہیں۔اب میں اس کتاب کو لیتا ہوں اس کتاب کا لکھنے والا رسول کریم ﷺ کا نام رنگیلا رکھتا ہے۔اور رنگیلا ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو عواقب زمانہ کا خیال نہ رکھتا ہو۔اپنی زندگی عیش و عشرت میں گزارتا ہو۔انجام اور عاقبت کو کچھ وقعت نہ دیتا ہو۔چنانچہ ہندوستان کے ایک بادشاہ محمد شاہ کا نام رنگیلار کھا گیا تھا۔جس کی وجہ یہ ہے کہ جب اس پر غنیم چڑھ کر آیا اور اس کی خبر اس تک بذریعہ تحریر پہنچائی گی تو اس نے اس کاغذ کو شراب کے پیالہ میں ڈال دیا۔آخر اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔اس وجہ سے اس کا نام رنگیلا ہو گیا۔کیونکہ اس نے عواقب پر نظر نہ کی بلکہ شراب و کباب اور عورتوں کی صحبتوں میں مصروف رہا۔رسول کریم ﷺ کو نعوذ باللہ رنگیلا کہہ کر یہی الزام اس کتاب والا آپ پر لگاتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا رسول کریم ﷺ پر کوئی عقلمند ایسے الزام لگا سکتا ہے۔ہر شخص جو آپ کی زندگی کے حالات سے واقف ہو جانتا ہے کہ سوائے اس شخص کے جو خود شراب کی ترنگ میں ایسی کتاب لکھے۔اور کوئی یہ الزام آپ پر نہیں لگا سکتا۔اور یہ دیکھا گیا ہے کہ شرابی جب شراب پی کر مخمور ہو جاتے ہیں تو دوسروں سے کہتے ہیں ہم تو ہوش میں ہیں تم نشہ میں ہو۔یہی اس شخص کا حال ہے جس نے یہ کتاب لکھی۔واقعی اس نے شراب کے نشہ میں یا فطرت کی گندگی کی وجہ سے اپنے نفس کے عیب اس مصفی آئینہ میں دیکھے جس سے بڑھ کر نہ کوئی مصفی آئینہ پیدا ہوا اور نہ ہو گا۔جس طرح ایک بد شکل اور سیاہ رو جب شیشہ میں اپنی شکل دیکھے تو سمجھے کہ یہ شیشہ کا قصور ہے۔اسی طرح اس کی حالت ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کتاب کا مصنف خود رنگیلا ہے جسے نہ خدا کا خوف ہے نہ دنیا کا ڈر۔ورنہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کو جب دیکھا جائے تو اس کا کوئی حصہ ایسا نہیں نظر آتا جس میں رنگیلا پن کا شائبہ بھی پایا جائے اور اس بات کو دشمن بھی مانتے ہیں۔میں نے بتایا ہے رنگیلا اسے کہا جاتا ہے جو شراب میں بد مست رہے۔اور اس طرح زندگی بسر