خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 174

سال 1927ء ۱۷۴ خطبات محمد اور گورنمنٹ نے بھی ان فتنہ انگیز لوگوں کو نہ روکا۔ تو یہ بتانے کے لئے کہ کس طرح مسلمانوں کے دل رکھتے ہیں۔ نہ کہ ہندوؤں کے بزرگوں کی ہتک کرنے کے لئے (کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ باتیں ان بزرگوں میں نہ ہونگی) ہم بھی کتابیں لکھیں گے اور ہر زبان میں انہیں شائع کریں گے۔ اس کے بعد میں اس کتاب کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جس نے سارے ہندوستان میں " آگ لگا رکھی ہے۔ ہندو تو کہتے ہیں کہ مسلمان رنگیلا رسول ۔ و چتر جیون اور اور تمان کا جواب نہیں دے سکتے اور ڈرتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ان گندی گالیوں اور بد زبانیوں کا جواب ہی کیا ہو سکتا ہے جو ان ناپاک کتابوں میں دی گئی ہیں۔ کیا ان میں کوئی علمی مضمون ہے جس کا جواب دیا جائے۔ اور کیا اس قسم کے اعتراض ہر انسان پر نہیں ہو سکتے۔ جس قسم کے ان کتابوں میں کئے گئے ہیں۔ آریہ خدا کے تو قائل ہیں۔ پھر روس کے ملک میں جو خدا پر اعتراض کئے جاتے ہیں۔ ان کے پاس ان کے کیا جواب ہیں۔ روسی جو دہر یہ ہیں۔ تھیٹروں میں خدا کو محرم کے طور پر دکھاتے اور لینن کو حج بنا کر اسکے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اور دنیا میں جو حادثات ہوتے ہیں۔ ان کو جرم کے طور پر پیش کر کے یہ الزام لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ اتنا بڑا مجرم ہے۔ اور پھر سزا دیتے ہوئے کہتے ہیں خدا کا خاتمہ ہو گیا۔ اور اب لینن کی پر انصاف حکومت قائم ہو گئی ہے۔ تو ایسے رنگ میں بد زبانی کرنے والے تو خدا کے متعلق بد زبانی سے بھی نہیں رکھتے۔ اور گالیوں کے لئے دلائل کی ضرورت ہی کونسی ہوتی ہے۔ اسی طرح کتاب راجپال اور در تمان میں کونسی دلیل ہے جس کا ہم جواب دیں۔ اس کا جواب سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ ایسے بد زبانوں کی یا ان کی قوم کے لوگوں کی شرافت ابھرے اور وہ اس بد زبانی سے باز آجا ئیں یا پھر گورنمنٹ روکے ورنہ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ ملک میں فساد ہونگے ۔ رسول کریم ﷺ کی عزت کے متعلق مسلمانوں میں اس وقت بے انتہا جوش ہے باوجود اس کے کہ میں متواتر توجہ دلا رہا ہوں کہ مسلمان امن سے رہیں اور فتنہ پرداز لوگوں کی شرارتوں سے مشتعل نہ ہوں۔ اور باوجود اس کے کہ مسلمان میری باتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ پھر بھی اس قسم کے خطوط آتے ہیں۔ کہ آپ کیوں مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ آپ ہمیں وہ بھی کر لینے دیں جو ہمارا دل چاہتا ہے ۔ یہ بات بتاتی ہے کہ اس وقت کسی طرح مسلمانوں کے دلوں میں رسول کریم اللہ کی محبت موجزن ہے۔ ایسی حالت میں آریوں کا یہ کہنا کہ "مسلمان اس لئے شور مچا رہے ہیں۔ کہ وہ جانتے ہیں۔ ان کے رسول کی زندگی میں رنگیلا پن پایا جاتا ہے ۔ " آگ پر تیل ڈالنا نہیں تو اور کیا ہے۔ اس