خطبات محمود (جلد 11) — Page 173
خطبات محمود 14F سال 1927ء مسلمان زرتشت۔کرشن۔رام چندر اور تمام ان بزرگوں کو جن کا دوسری اقوام ادب کرتی ہیں ان کی عزت کرتا ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے ان میں سے سارے یا بعض ایسے ہیں جو اپنی اپنی قوم کی ہدایت کے لئے خدا تعالی کی طرف سے مبعوث ہوئے تھے۔اس وجہ سے اور قوموں کے لوگ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ان کی بد زبانیوں کا جواب نہیں دے سکتے ورنہ مسلمان ایسا جواب دے سکتے ہیں کہ ان معترضین کو اپنے گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہو جائے۔ویدوں میں دیوتاؤں اور رشیوں کے جو حالات لکھے ہیں اور گیتا میں کرشن کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ ہم سے پوشیدہ نہیں۔کیا ہندوؤں کی کتابوں میں یہ نہیں لکھا کہ ایک رشی ایک عورت پر عاشق ہو گیا اور اس کی ایسی حالت ہو گئی جو مرد عورت کے ملنے سے ہوتی ہے۔اس پر اس نے دھوتی اتار کر رکھی تو اس دھوتی سے بچہ پیدا ہو گیا۔پھر انہی کتابوں میں رکمنی کا جو واقعہ لکھا ہے وہ کس سے پوشیدہ ہے کہ کرشن جی اسے لیکر بھاگ جاتے ہیں۔اسی طرح ان کتابوں میں اور جو سینکڑوں نہایت شرمناک واقعات درج ہیں وہ ہماری نظروں سے پوشیدہ نہیں۔مگر ہم جانتے ہیں ان بزرگوں کی طرف جو گندے واقعات منسوب کئے گئے ہیں وہ سب جھوٹے ہیں۔انہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں دنیا میں صداقت قائم کی تھی اور وہ لوگوں کی اصلاح کے لئے آئے تھے۔کیونکہ ہمیں قرآن بتاتا ہے کہ ہر قوم میں خدا نے نبی بھیجے اس وجہ سے ہم سب قوموں کے بزرگوں کو پار سا سمجھتے ہیں اور ان کے خلاف زبان درازی نہیں کرنا چاہتے۔ورنہ ہم ہندوؤں کی اپنی کتابوں سے ہی وہ وہ واقعات لکھ سکتے ہیں کہ ہندوؤں کے لئے مجلسوں میں بیٹھنا مشکل ہو جائے۔پس ہمارا مذہب ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم دوسرے مذاہب کے بزرگوں کے خلاف بد زبانی کریں لیکن اگر ہندوؤں کی طرف سے متواتر اسی طرح حملے جاری رہے تو ہمیں حملے کے طور پر نہیں بلکہ یہ بتانے کے لئے کہ ایسی باتوں سے کس قدر دکھ اور تکلیف پہنچتی ہے بتانا پڑے گا کہ ہندوؤں کی کتابوں میں کیا لکھا ہے ہمارے پاس اتنا ذخیرہ ہے کہ اگر ہندو باز نہ آئے اور گورنمنٹ نے ان کو نہ روکا تو ہمیں بھی وہ پیش کرنا پڑے گا اور ہمارے پاس اس کے لئے اتنا سامان ہے جو سارے ہندوستان کو جلا دینے کے لئے کافی ہے۔ہندوستان کے کسی گوشہ کا کوئی رشی منی جسے ہندو پوجتے ہیں ایسا نہیں جس کے متعلق ہندوؤں ہی کی کتابوں میں ایسے واقعات موجود نہ ہوں جن کی کسی جگہ ہر گز مثال نہیں مل سکتی۔اگر ہندوؤں نے اس گندی اور ناپاک جنگ کو بند نہ کیا۔اور بلا وجہ ناپاک حملوں سے باز نہ آئے۔اور ہندو قوم نے ایسے گندے لوگوں سے اظہار نفرت نہ کیا۔