خطبات محمود (جلد 11) — Page 172
خطبات محمود ۱۷۲ سال 1927ء شرافت سے بعید ہے۔اگر وہ لوگ جو بانی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف آریوں کی گالیوں پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ان میں بھی انسانیت ہوتی اور ملک میں امن قائم رکھنا ضروری سمجھتے تو جب آریوں نے رسول کریم اے کو گالیاں دی تھیں سکھ یہودی عیسائی اور دیگر مذاہب والے اٹھ کھڑے ہوتے اور ان سے کہتے تمہاری یہ خلاف انسانیت حرکت ہم برداشت نہیں کر سکتے یہ کونسی شرافت ہے کہ تم مسلمانوں کے رسول کو گالیاں دے رہے ہو۔اب اگر دوسرے مذاہب والوں نے یہ نہیں کیا تو یہ ان کی بے غیرتی اور بے ہودگی کا ثبوت ہے نہ کہ وسعت حوصلہ اور فراخ دلی کا۔لیکن میں کہتا ہوں یہ بھی غلط ہے کہ دیگر مذاہب کے لوگ نہیں بولے۔میں جانتا ہوں خود ہندوؤں میں ایسے لوگ ہیں جو آریوں کی بد زبانیوں کو سخت نا پسند کرتے ہیں۔اسی طرح عیسائیوں میں ایسے لوگ ہیں جو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔تھوڑے ہی دن ہوئے ایک عیسائی اخبار نے ایک مضمون بھی اس بارے میں لکھا تھا سکھوں میں بھی ایسے لوگ ہیں جو آریوں کی بد زبانیوں کو نا پسند کرتے ہیں۔چنانچہ ابھی چند دن ہوئے سیالکوٹ میں مسلمانوں نے ایک جلسہ کیا۔اس میں جب ہمارے ایک مبلغ نے " در تمان " کا مضمون پڑھ کر سنایا تو معلوم ہوا کئی سکھوں کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔بات اصل یہ ہے جس قوم میں شرافت ہو وہ ایسے افعال پر اظہار نفرت کرنے پر مجبور ہو گی ایسے تمام ہندوؤں۔سکھوں عیسائیوں۔پارسیوں کے ہم ممنون ہیں جو انسانیت کے قدردان اور غیر شریفانہ افعال پر اظہار نفرت کرنے والے ہیں۔اور دوسرے خواہ وہ کسی قوم کے ہوں جنہوں نے اظہار نفرت نہیں کیا۔ان کے متعلق کہتے ہیں انہوں نے سمجھا نہیں کہ انسانیت کا فرض ادا کرنے میں انہوں نے کس قدر کو تا ہی کی ہے اور انہوں نے خیال نہیں کیا کہ آج اگر مسلمانوں پر حملے کئے جارہے ہیں تو کل ایسا ہی وقت ان پر بھی آسکتا ہے۔یہ بات نہ سمجھتے ہوئے وہ انسانیت کے فرض کی ادائیگی سے قاصر رہے ہیں۔پھر ایک اور وجہ ہے جس سے مسلمان شور مچارہے ہیں اور وہ یہ کہ مسلمانوں کو منع کیا گیا ہے دوسرے مذاہب کے بزرگوں کو برا کہنے سے۔ان کو بتایا گیا ہے کہ رسول کریم اے کے آنے سے پہلے تمام قوموں میں انبیاء آتے رہے ہیں۔اس وجہ سے ایک مسلمان جہاں رسول کریم کی عزت کرتا ہے وہاں حضرت کی۔حضرت موسیٰ حضرت ابراہیم "۔حضرت نوح۔حضرت حزقیل۔حضرت دانیال کا بھی ادب کرتا ہے۔اسی طرح اور مذاہب کے بزرگوں کے نام اگر چہ قرآن میں نہیں آئے۔مگر قرآن کہتا ہے سب قوموں میں نبی بھیجے گئے۔اس لئے ایک