خطبات محمود (جلد 11) — Page 160
سال 1927ء ١٩٠ خطبات محمود جن سے رسول کریم ان کی عزت دشمنوں کے حملوں سے محفوظ ہو جائے۔ میں سمجھتا ہوں۔ ہم میں سے ہر وہ شخص جس نے بچے طور پر احمدیت کو قبول کیا ہے رشک کرتا ہو گا ان لوگوں پر جن کو خدا تعالیٰ کے رستہ میں تکلیف اٹھانے کا موقع ملا۔ اور وہ اس بات کی تڑپ رکھتا ہو گا کہ اسے بھی خدا تعالیٰ ایسے کام کرنے کی توفیق دے جن سے اس کا ایمان کھرا ثابت ہو ۔ اور خود اس پر بھی اور دوسروں پر بھی ظاہر ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کی ذات اس کی صفات اس کی قدرت اس کی طاقت پر اسے ایسا یقین ہے کہ کوئی خطرہ اور کوئی خدشہ اسے اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا۔ لیکن ایسے سب لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے قوانین اور اس کی حکمتوں کے ماتحت صبر سے کام لینا پڑتا ہے۔ اس زمانہ میں جس طرح متواتر رسول کریم اس کی ہتک کثرت سے کی جا رہی اور کثرت سے پھیلائی جارہی ہے۔ اس کی نظیر پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی۔ آپ کے خلاف گندی کتابیں پہلے بھی لکھی گئیں ۔ مگر وہ دل آزاری میں اتنی بڑھی ہوئی نہ تھیں جتنی اب ہیں۔ اس کی دو وجہیں ہیں ایک تو یہ کہ ان کی اشاعت اتنی نہ ہوئی جتنی اس وقت کی جاتی ہے۔ دوسرے اس وقت لکھنے والے محض گالیوں پر اکتفا کرتے تھے ۔ مگر اب ایسے سائنٹفک طریق استعمال کئے جاتے ہیں کہ ان کی بد زبانیوں کی قلب پر چوٹ پڑتی ہے۔ پس کیا بلحاظ تواتر کے۔ اور کیا بلحاظ مضامین کے اور کیا بلحاظ اشاعت کے اور کیا بلحاظ اس کے کہ قوم کی قوم ایسے لوگوں کے پیچھے کھڑی ہے۔ پہلے زمانہ کے حملوں سے بہت بڑھے ہوئے ہیں۔ حالانکہ موجودہ حالت ان باتوں کی متقاضی نہ تھی جو اسلام کے خلاف دشمن کر رہے ہیں۔ پہلے جب رسول کریم اللہ کے خلاف کتابیں لکھی جاتی تھیں اس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تعلیم کہ تمام و تمام دنیا میں نبی آئے قائم قائم نہ ہوئی تھی۔ بلکہ اس وجہ سے آپ پر کفر کے فتوے دیئے جاتے تھے۔ مگر پھر آپ کی اس تعلیم نے گھر کرنا شروع کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج وہ لوگ جو اس وجہ سے آپ پر کفر کے فتوے لگاتے تھے۔ اسے اسلام کی طرف سے پیش کر رہے ہیں۔ اور مسلمانوں کا بیشتر حصہ اس بات پر قائم ہو گیا ہے۔ کہ ہندوؤں کے بزرگ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے تھے۔ اور ان کی ہتک نہ کرنی چاہیے ۔ لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے ۔ کہ اس وقت جب کہ مسلمان ہندوؤں کے بزرگوں کی تعریف کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ ایسی کتابیں آریوں کی طرف سے شائع ہو رہی ہیں جن میں مسلمانوں کی دل آزاری کی جارہی ہے۔ ان حالات میں اگر مسلمانوں کے دلوں میں ہندوؤں کے متعلق نفرت اور غصہ کی لہر پیدا ہو تو کوئی حیرت کی بات نہیں لیکن میں مسلمانوں سے کہوں گا کہ ہر غصہ کے وقت جو ہر دل میں