خطبات محمود (جلد 11) — Page 140
خطبات محمود ۱۴۰ سال 1927ء گرفتار ہو گئے۔اور بعد میں ہمارا اشتہار بھی ضبط ہو گیا۔لیکن ہمارے سامنے یہ بات نہیں کہ زید یا بکر قید ہو جائے۔اس سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ہمیں فائدہ اگر ہے تو اس میں کہ کوئی ایسی ناپاک آواز سننے والا نہ رہے جیسی اس رسالہ میں بلند کی گئی ہے۔کیونکہ قاعدہ ہے کہ دنیا میں کوئی آواز نہیں اٹھتی جب تک اس کے اٹھانے والے کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس آواز کو سننے والے موجود ہیں۔پس ہمارا فائدہ اس میں نہیں کہ کوئی قید ہو جائے۔بلکہ اس میں ہے کہ کوئی اس آواز کو سننے والا نہ رہے۔جس شخص کے پیچھے خدا تعالیٰ کی آواز محرک کے طور پر نہیں ہوتی وہ کوئی ایسی آواز نہیں اٹھاتا جسے قبول کرنے والے لوگ موجود نہ ہوں سوائے اس کے کہ وہ پاگل ہو۔پس در تمان کے ایڈیٹر اور اس کے نامہ نگار جیسے لوگ جب گندے اور ہتک آمیز فقرے استعمال کرتے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ پبلک میں سے ایک حصہ ضرور ان کے فعل کو بنظر استحسان دیکھے گا اور اسے کار ثواب سمجھے گا۔پس جنہوں نے مضمون لکھا اور شائع کیا۔اور جنہوں نے نظر استحسان دیکھا۔ان میں فرق یہ ہے کہ پہلوں نے اپنے خیالات کو ظاہر کر دیا۔اور دوسروں نے انہیں دماغ پر کندہ کیا ہوا تھا۔یہ دونوں ہمارے لئے برابر ہیں۔کسی وفات یافتہ شخص کے متعلق ایک جماعت کا یہ سمجھتے رہنا کہ وہ چور ہے۔اور ایک جماعت کا اسے ظاہر کر دینا اس کی حقیقی عزت کو مد نظر رکھتے ہوئے برابر ہے۔اصل چیز دل ہے۔اگر دلوں میں کسی کے حسن کی قدر نہیں اور اس کا اعتراف نہیں تو سمجھ لینا چاہتے کہ وہ حسن جلوہ گر نہیں ہوا۔پس جب تک کہ قلوب کی اصلاح نہ کی جائے اور ان میں یہ یقین نہ پیدا کیا جائے کہ آنحضرت ﷺ کی زندگی ایسی پاک ہے کہ اس کا نمونہ دنیا میں ملنا نا ممکن ہے۔اس وقت تک ہمیں خوش نہیں ہونا چاہئے۔اگر ایسے اشخاص کو جو آپ اللہ کے متعلق برے الفاظ استعمال کرتے ہیں اور ہتک آمیز فقرے لکھتے ہیں۔جیسے کہ ”ور تمان " اور اس کے نامہ نگار نے لکھے۔دو نہیں ، دس نہیں ، سو نہیں ، پچاس ہزار سال کے لئے بھی گورنمنٹ قید کر سکتی ہو اور ایسا کر دے۔تو اس سے ایک مسلمان کو کوئی خوشی نہیں ہو سکتی کیونکہ جس شخص نے رسول کریم ال کے متعلق اپنے برے خیالات کو ظاہر کیا ہے اس نے رسول کریم اللہ کے متعلق کوئی نیا پہلو اختیار نہیں کیا۔بلکہ صرف ہمارے احساسات کو صدمہ پہنچایا ہے۔اس لئے اس کے قید ہونے سے رسول کریم ﷺ کی عزت نہیں بڑھتی۔بلکہ جو صدمہ ہمارے احساسات کو پہنچایا گیا تھا اس کا