خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 134

خطبات ۱۳۴ سال 1927ء مسلمانوں کے ساتھ ایک ہی قسم کا سلوک کریں گے۔خواہ مسلمان ایک دوسرے کو کافر ہی کہتے ہوں۔دفاتر میں اس کی مثال موجود ہے۔ہندوؤں کی کوشش یہ ہوتی ہے۔کہ جہاں تک ہو سکے دفاتر میں ہندوؤں کو بھرا جائے۔اس کے لئے وہ یہ نہیں کرتے کہ چونکہ شیعوں کو کافر کہا جاتا ہے یا حنفیوں کو کافر کہا جاتا ہے اس لئے ان کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرنا چاہئے۔بلکہ وہ سب کے ساتھ ایک ہی قسم کا سلوک کرتے ہیں اور ہندوؤں کو دفتروں میں بھرنے کے لئے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ فلاں فلاں کو کافر کہا جاتا ہے اس لئے اسے ایسا سلوک کرنے سے چھوڑ دینا چاہئے۔اور اس کے لئے وہ بہانہ یہ کیا کرتے ہیں کہ مسلمان نالائق ہوتے ہیں۔اب ہندوؤں کے نزدیک ہندوؤں نے ہی لائق ہونا ہے۔اگر لیاقت کا معیار ڈگری کو قرار دیا جائے۔تو سینکڑوں بی۔اے مسلمان یو نہی پھرتے ہوئے ملیں گے۔اور ایم۔اے اور انٹرنس پاس ہوں گے۔لیکن باوجود اس کے ہندو ایسا نہیں کرتے۔اور ان کو بھرتی نہیں ہونے دیتے۔ان کی جگہ کسی ہندو کو لے آتے ہیں۔جس کے پاس کوئی ڈگری نہیں ہوتی۔تو لیاقت کا معیار ہندو اور خیال کرتے ہیں۔ان کے نزدیک مسلمان لائق ہی نہیں ہوتا۔اس لئے وہ ہندوؤں کو دفتروں میں بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو یہ جو اتلاف حقوق کیا جاتا ہے اس کے لئے ایک ہندو اس بات کا فرق نہیں کرتا کہ جن کو کافر کہا جاتا ہے ان کو اپنے اس سلوک سے چھوڑ دے۔بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ یہ مسلمان ہے۔چاہے وہ اپنے نام کے ساتھ احمدی کے یا حنفی کے یا وہابی کہے یا شیعہ کے یا چکڑالوی کے یہی حال عیسائیوں کا ہے وہ بھی یہی سلوک کرتے ہیں۔پس ایک تعریف میں نے یہ کی تھی کہ ہندو اور عیسائی کسی فرقہ کو نہیں چھوڑتے بلکہ ان کے نزدیک سب فرقے ایک ہی طرح کے ہیں۔ان کے نزدیک جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے وہ مسلمان ہے خواہ وہ کسی فرقہ کا ہی ہو۔اس لئے اس کے حقوق تلف کرنے چاہئیں۔پس میں نے تجویز کی کہ ایک تو وہ تعریف اسلام کی ہے جو ہم سمجھتے ہیں۔اور جو شادی بیاہ ، موت نوت امانت عبادت اور دوسرے دینی معاملوں میں کام کرتی ہے۔لیکن جس سے غیروں کے ساتھ معاملہ پڑتا ہے وہ اور ہے۔اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم خواہ اس تعریف کے ماتحت جو عبادات اور دینی امور کے متعلق سمجھی جاتی ہے کتنا ہی ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہوں۔لیکن جس سے غیروں سے معاملہ پڑتا ہے اس میں ایک ہیں۔اور اسی وجہ سے وہ ہم سے ایک ہی جیسا سلوک کرتے ہیں۔تو دوسری تعریف کا یہ مطلب ہے کہ ہر فریق جو بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔اس میں وہ سب اکٹھے ہو جا ئیں اور ایک ہو جائیں۔اب یہ ایک ایسی تعریف ہے کہ اس کے ذریعے بہت جلد اتفاق ہو سکتا ہے۔اور اگر