خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 106

1+4 سال 1927ء حکومت دنیا میں باقی ہو یا کوئی مسلمان ہی زندہ ہو۔پس جب کوئی قوم یہ کہتی ہے کہ وہ مکہ پر اپنا ند ہی جھنڈا گاڑے گی۔تو دوسرے لفظوں میں اس کا یہ مطلب ہے کہ ایک مسلمان کو بھی دنیا میں زندہ نہ چھوڑے گی۔اور ایک بھی اسلامی حکومت نہ باقی رہنے دے گی۔کیونکہ جب تک کوئی اسلامی حکومت باقی ہو یا ایک ہی سچا مسلمان زندہ ہو۔اپنی جان دے دے گا مگر زندہ رہ کر کبھی گوارا نہ کرے گا کہ مکہ پر ادم کا جھنڈا کسی کو گاڑنے دے پس جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ یہ کوئی مذہبی سوال نہیں۔اگر یہ مذہبی سوال ہو تا تو مختلف مذاہب والے جن میں ایک دو سرے سے زمین و آسمان کا فرق ہے وہ مسلمانوں کے خلاف کیوں مل جاتے۔دراصل یہ سیاسی سوال ہے۔ورنہ جینیوں اور سکھوں کا ہندوؤں سے کیا تعلق یہ لوگ اسلام کی نسبت ہندو مذہب کے زیادہ دشمن ہیں۔ان کے اتحاد سے یقیناً معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذہبی سوال نہیں بلکہ سیاسی ہے۔پس اوم کے جھنڈے سے مراد ادم کا جھنڈا نہیں۔بلکہ ہندوؤں کی حکومت اور بنیوں کی حکومت کا جھنڈا ہے جسے مکہ پر گا ڑنا چاہتے ہیں۔اب میں پوچھتا ہوں ایسی حالت میں کسی اسلامی فرقہ کو جو دو سرے فرقہ کو کافرہی سمجھتا ہو ا تحاد کرنے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔ہندوؤں کے ان ارادوں کا کہ مکہ پر اپنی حکومت کا جھنڈا گاڑنا ہے احمدی یا غیر احمدی شیعہ یاسنی کے سوال سے کیا تعلق۔فرض کر لو شیعیت ہی کچی ہے۔لیکن جب مکہ پر ہندوؤں کا جھنڈا جا گڑے گا تو کیا شیعیت باقی رہ جائے گی یا احمدیت کچی ہے ہمارے عقیدہ کی رو سے۔کیا وہ باقی رہ جائے گی یا اگر حنفیت بچی ہے تو وہ باقی رہ جائے گی یاد رکھو کوئی اسلامی فرقہ بھی باقی نہیں رہ جائے گا سب مٹیں گے۔یہ کہہ دینا کہ مکہ کی حفاظت خدا کا کام ہے ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں سخت نادانی ہے۔کیا خدا کا کام محمد اللہ کی حفاظت کرنا نہ تھا۔اور کیا مکہ کی حفاظت کی طرح ہی قرآن کریم میں آپ کے متعلق نہیں آتا کہ واللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ پھر کیا صحابہ آپ کا پہرہ نہیں دیتے تھے۔حدیثوں سے پتہ لگتا ہے کہ ایک قبیلہ کے لوگ آتے اور آکر آپ کا پہرہ دیتے۔حالانکہ اس وقت مدینہ پر اسلامی حکومت تھی۔اور ایسے جان نثار موجود تھے کہ جب جنگ بدر کے موقع پر رسول کریم ﷺ نے مسلمانوں سے پوچھا۔تمہاری کیا منشاء ہے تو اس وقت ایک صحابی نے کھڑے ہو کر کہا۔یا رسول اللہ جو آپ کی مرضی وہی ہماری مرضی ہے۔ایک اور مہاجر نے بھی یہی کہا۔اس وقت تک انصار کم اور مہاجر زیادہ تھے۔اور رسول کریم ان انصار کی رائے معلوم کرنا چاہتے تھے۔آپ نے فرمایا نہیں رائے دو۔میں رائے پوچھتا ہوں۔اس وقت