خطبات محمود (جلد 11) — Page 91
خطبات محمود 91 سال 1927ء کے فعل کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔اگر انہوں نے اسی جوش اور اسی طریق سے اظہار نفرت کیا۔جس طرح مسلمانوں نے شردھانند کے قتل پر کیا تھا۔تو ہم سمجھیں گے کہ ہندوؤں میں بھی تبدیلی آگئی ہے۔اور شرافت اور انسانیت کے جذبات ان میں پیدا ہو گئے ہیں۔لیکن اگر انہوں نے قاتلوں کے فعل پر پردے ڈالنے کی کوشش کی اور ان کے مددگار بن گئے۔تو اس کے یہ معنی ہوں گے۔کہ یہ قوم انسانیت کے دائرہ سے نکل کر حیوانیت کے دائرہ میں داخل ہو چکی ہے۔بلکہ اس سے بھی بد تر حالت کو پہنچ چکی ہے۔اور اس سے صلح کر کے مسلمان اس ملک میں امن سے نہیں رہ سکتے۔آج تک کا پچھلا تجربہ بتاتا ہے کہ جہاں کہیں بھی ہندوؤں پر ظلم ہوا۔مسلمانوں نے ان سے ہمدردی کی۔اور اس فعل کے کرنے والوں سے اظہار نفرت کیا۔لیکن جہاں جہاں مسلمانوں پر ہندوؤں نے مظالم کئے۔وہاں ہندوؤں نے نہ تو مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور نہ اپنی قوم کے ظالم اور بے رحم لوگوں کے افعال سے اظہار نفرت کیا۔یہی وجہ ہے کہ ان میں مسلمانوں کے خلاف جوش اور جرأت بڑھتی جارہی ہے۔آج بھی اگر ہندو لیڈر مسلمانوں پر رحم کر کے نہیں بلکہ اپنی قوم پر رحم کر کے کیونکہ بالاخر نقصان انہی کو اٹھانا پڑتا ہے جو ظالم ہوں۔ظالم قوم جو قبر دو سرے کے لئے کھودتی ہے دراصل اس میں خود گرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ظالم کبھی جیت نہیں بلکہ ہمیشہ مغلوب ہوتا ہے۔پس یہ ظلم ان کو فائدہ نہیں دے سکتا۔اس لئے اگر وہ اپنی قوم کے ایسے افعال سے اظہار نفرت کریں گے تو اس سے ان کی قوم کے اخلاق بچ جائیں گے۔مجھے یہ بات معلوم کر کے نہایت افسوس ہوا ہے کہ ہندوؤں اور سکھوں کے ظلم کے بعد مسلمانوں نے بھی بعض ہندوؤں اور سکھوں کو مارا پیٹا ہے۔میں ان کے اس فعل پر بھی اسی طرح اظہار نفرت کرتا ہوں۔جس طرح ہندوؤں کے فعل پر کیا ہے۔مسلمانوں نے جن ہندوؤں یا سکھوں کو مارا ہے۔ان کا کوئی جرم نہ تھا۔وہ مسلمانوں کے قاتل نہ تھے۔اور اس وقت قتل میں شریک نہ تھے ان کو قتل کرنا یا مارنا سخت ناروا اور نا واجب تھا۔پس میں مسلمانوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ ان کو اپنے افعال اپنے قابو میں رکھنے چاہئیں۔وہی انسان وقت پر کام کر سکتا ہے۔جو اپنے جوش کو دبا سکتا ہے۔اور جو ایسا نہیں کرتا بلکہ فورا نکل جانے دیتا ہے وہ کچھ کام نہیں کر سکتا۔انسانی دماغ انجن کی طرح ہوتا ہے۔جب انجن میں سٹیم بھر جائے تو چلنے لگ جاتا ہے لیکن جب سٹیم نکل جائے۔تو کھڑا ہو جاتا ہے۔واقعات اور حوادثات انسان کے دماغ میں سٹیم بھرنے والے ہوتے ہیں۔ان کے ذریعہ جو جوش پیدا ہو اسے اگر نکلنے دیں تو وقت پر کچھ کام نہیں دے سکتا۔ہاں