خطبات محمود (جلد 11) — Page 89
خطبات محمود ۸۹ سال 1927ء حالت میں جبکہ وہ بالکل نہتے ہوں۔کچھ مضبوط اور قوی آدمیوں کا ہتھیار لے کر جاپڑنا بہتوں کو زخمی کر دینا اور کئی کو مار دینا انسانی فطرت کا ایسا تاریک پہلو پیش کرتا ہے جو نہایت ہی بھیانک ہے۔خبر ہے کہ اس وقت تک تین مسلمانوں کو سکھوں اور ہندوؤں نے قتل کر دیا۔ایک ہندو کو زخمی کر دیا۔مگر اس لئے کہ وہ شلوار اور مسلمانوں کی سی ٹوپی پہنے ہوئے تھا۔جب اس نے بتایا کہ میں ہندو ہوں تو پھر اسے چھوڑ دیا گیا۔اس کے علاوہ اور بہت سے مسلمان زخمی ہوئے۔اس کے بعد برابر ہند و مسلمانوں میں فساد کی رو چل رہی ہے۔اس وقت تک سات آٹھ آدمی اور مارے جاچکے ہیں۔اور ایک سو کے قریب زخمی ہسپتال میں پڑے ہیں۔حالانکہ جوش دکھانے والے بے خبر مسلمانوں کو قتل اور زخمی کرنے والے۔مسلمانوں کے خلاف تدبیریں کرنے والے اور ان کا نام و نشان مٹانے کی تیاریاں کرنے والے اور ہیں۔اور مارے اور جا رہے ہیں۔اسی طرح مسلمانوں میں سے اکثر اس وجہ سے ہندوؤں کے ظلم وستم کا شکار ہو رہے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں۔ورنہ فساد سے انہیں کوئی تعلق نہیں۔کوئی گھر سے سودا لینے بازار گیا۔اگر مسلمان تھا تو ہندوؤں نے اکیلا دیکھ کر مار ڈالا۔اور اگر ہندو تھا تو مسلمانوں نے مار دیا۔کوئی بیمار کے لئے دوائی لینے گیا۔اسے بار ڈالا۔اکثر واقعات جو اس وقت تک ہوئے ہیں۔ایسے ہی ہیں کہ وہ مظلوم جن پر ستم توڑا گیا۔بالکل بے قصور اور بے گناہ ہوتے ہیں۔ان کا فساد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔محض اس لئے قتل کر دیے جاتے ہیں۔یا زخمی کر دیے جاتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں یا ہندو۔یہ دراصل نتیجہ ہے اس رو کا جو دیر سے چل رہی ہے۔اور یہ نتیجہ ہے ہندو لیکچراروں کے ان لیکچروں کا جن میں انہوں نے ہندوؤں کو یہ تلقین کی ہے کہ یا تو مسلمانوں کو ہندوستان سے بالکل خارج کر دیا جائے۔اور باقی ہندو ہی ہندو رہ جائیں۔یا پھر ہندو مسلمان ہو کر رہیں۔اس کے سوا ان کے لئے اور کوئی چارہ نہیں ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندو لیکچراروں کی قوم میں مسلمانوں سے عداوت اور دشمنی بڑھ رہی ہے۔اور وہ کہتے ہیں۔ہندو لیڈر تو جب یہ کام شروع کریں گے دیکھا جائے گا۔ہم سے جس قدر ہو سکے ہم اسے شروع کر دیں۔ہم احمد کی بظاہر ان حالات سے متاثر نہیں ہوتے کیونکہ ان کا اثر براہ راست ہم پر نہیں پڑتا۔لیکن اگر تھوڑی دیر کے لئے اس وحشت کو اپنی آنکھوں کے سامنے لائیں جس سے کام لیا جا رہا ہے۔اور یہ نقشہ کھینچیں کہ ایک شخص بھلا چنگا گھر سے نماز کے لئے جاتا ہے یا اپنے کسی عزیز بیمار کے لئے دوالانے کے لئے گھر سے نکلتا ہے۔یا بائیسکل پر سوار ہو کر کہیں جا رہا ہے اور مارا جاتا ہے۔جب اس کے گھر والوں کو یہ خبر پہنچے گی کہ ان کا آدمی نماز پڑھ کر واپس آنے کی بجائے خون میں لتھڑا ہوا