خطبات محمود (جلد 11) — Page 88
سال 1927ء لاہور کا خونی ہنگامہ (فرموده ۶/ مئی ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج میں فطرت انسانی کے اس تاریک ترین پہلو کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں جس پر نگاہ ڈالتے ہوئے وہ انسان جس کی نسبت بائبل میں آتا ہے کہ خدا نے اسے اپنی شکل پر پیدا کیا اور جس کی نسبت اسلام کہتا ہے کہ اشرف المخلوقات ہے۔وہ نہایت ہی بدصورت اور ہیبت ناک جانوروں کی شکل میں نظر آتا ہے۔اگر انسان کے اخلاق حیوانوں سے بہتر نہیں تو وہ ان سے بھی بد تر صورت میں اپنے آپ کو پیش کرتا ہے ابھی تازہ واقعہ ہے۔اور یہ واقعہ اکیلا نہیں۔بلکہ ایک لمبے سلسلہ واقعات کی کڑی ہے۔اور نہیں کہہ سکتے کہ یہ آخری کڑی ہوگی یا اور بہت سی کڑیاں یکے بعد دیگرے اس سے جڑتی جائیں گی۔وہ واقعہ یہ ہے کہ لاہور میں اترسوں منگل کے دن عشاء کی نماز پڑھ کر کچھ مسلمان ایک مسجد سے نکل رہے تھے کہ ان پر کچھ سکھ اور ہندو یہ کہتے ہوئے حملہ آور ہوئے کہ مار ڈالو۔کسی کو نہ چھوڑو۔مسلمانوں کی احکام دین سے بے توجہی کے باعث نماز پڑھنے والے عموماً غریب طبقہ کے لوگ ہوتے ہیں۔اور آج کل کی مذہبی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ بڑھے جو سمجھتے ہیں کہ اب ہم مرنے والے ہیں خدا کو یاد کر لیں ورنہ کیا جواب دیں گے۔وہی عام طور پر نمازی ہوتے ہیں۔ورنہ امراء اور نوجوان طبقہ کے لوگ تو نماز کے قریب جانا پسند ہی نہیں کرتے۔اور وہ اسے چھوڑ چکے ہیں۔پس وہ لوگ جو نمازیں پڑھتے ہیں۔ان میں عموماً وہی لوگ ہوتے ہیں۔جو نہ آج کل کے ہندو مسلم جھگڑوں سے وابستہ ہوتے ہیں نہ ان میں ان کا دخل ہوتا ہے۔اور نہ انہیں کوئی پوچھتا ہے۔وہ اپنے دن مصیبت سے گزار رہے ہوتے ہیں اور قبر میں پاؤں لٹکائے موت کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں ایسے لوگوں پر اس وقت جبکہ وہ بے خبر ہوں۔اور ایسی