خطبات محمود (جلد 11) — Page 86
خطبات محمود سال 1927ء ہوتا۔یا اگر مسلمان تبلیغ کے لئے کھڑے ہو جاتے۔اور ان لوگوں میں سے جو اعتراض کرتے ہیں لاکھوں کو مسلمان بنا لیتے۔تو مذمت کرنے والے کم اور مدح کرنے والے زیادہ ہو جاتے اور آنحضرت اللہ کی حمد بڑھنی شروع ہو جاتی۔میں اس موقع پر خصوصیت سے اپنی جماعت کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ وہ کھڑے ہو جائیں۔ایک مکمل ندا اور ایک کامل عبادت ان کو دی گئی ہے جس کے نتائج یقینی ہیں۔ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔کیونکہ ان سے اگر فائدہ اٹھایا جائے گا تو آنحضرت اللہ کی مذمت کرنے والوں کی تعداد کم ہو جائیگی اور مدح کرنے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔یہی وہ طریق ہے جس سے تم رسول کریم کو مقام محمود پر کھڑا کر سکتے ہو۔اور یہ تمہارے اختیار میں ہے۔چاہو تو آپ کو اس منبر پر کھڑا کر دو جس پر آپ کی تعریف ہو۔اور چاہو تو اس جگہ پر آپ کو لے آؤ جہاں آپ کی مذمت ہو۔لیکن اس صورت میں تمہارا یہ دعا مانگنا کہ اے خدا آنحضرت ﷺ کو مقام محمود پر کھڑا کر تمسخر ہو گا ہتک ہو گی اور بے عزتی ہوگی۔میں اپنی جماعت کے سوا باقی مسلمانوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وہ پہلے نہیں سمجھے تو آج میرے ذریعے اس دعا کو سمجھ لیں۔اور اس شخص کے ذریعے اس دعا کو سمجھ لیں جسے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس کا مطلب سمجھایا اور جس کے دل میں اسلام کا درد ہے۔اس میں ان کی کوئی بتک نہیں۔اگر وہ میرے ذریعہ اس دعا کو سمجھ لیں گے۔تو پھر بھی وہ معزز کے معزز ہی رہیں گے۔لیکن دشمنوں کی یہ بد سلو کی دیکھ کر بھی وہ اگر اب اس طرف توجہ نہ کریں تو دوہرے مجرم ہو نگے ایک پہلے کام نہ کرنے کے اور دوسرے اس وقت غفلت کرنے کے اور اس دعا کو نہ سمجھنے کے۔پس میں پھر ان سے کہتا ہوں کہ اگر اسلام کا دردان کے اندر ہے تو وہ اس دعا کے مطلب کو مجھ سے سمجھ لیں اور پھر اس پر عمل کریں۔میں خداتعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم اس کے دین کے لئے کوشش کرنے والے ہوں تقویٰ حاصل کرنے والے ہوں۔اور ان برکتوں کو جو اسلام لایا دنیا میں پھیلا دیں۔اور آنحضرت ا کی لائی ہوئی تعلیم کو دنیا کے کونہ کو نہ میں پہنچادیں۔(کیونکہ اس طرح آپ کی مذمت کرنے والے کم ہو جائیں گے۔اور دین کو پھیلانے والے اور آنحضرت کی مدح کرنے والے زیادہ ہوں گے ) - اللهُمَّ مِيْنَ يَا رَبَّ الْعَالِمِينَ۔خطبہ ثانیہ میں فرمایا :