خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 85

خطبات محمود ۸۵ سال 1927ء آدمیوں کے متعلق کہیں کہ ان کو میرے ذریعہ ہدایت ہوئی۔تو محمد رسول اللہ کئی ہزار کو پیش کر دیں کہ ان کو میرے ذریعے ہدایت ہوئی ہے۔حضرت موسیٰ اگر ایک کروڑ کو لا ئیں تو آنحضرت ا دس کروڑ کو لا کھڑا کریں کہ ان کو میرے ذریعے ہدایت ہوئی ہے۔اور میرے ذریعے انہوں نے اصلاح پائی ہے۔کیا یہ فضیلت ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہنے سے حاصل ہو سکتی ہے ہرگز نہیں یہ تبلیغ اور نفس کی اصلاح سے ہی حاصل ہوگی۔دیکھو ایک شخص زمین میں دانہ ڈالتا نہیں اور غلہ کے لئے دعا کرتا ہے تو صرف دعا سے اس کا غلہ کیسے بڑھے گا۔مسلمان بھی جب تک کام نہ کریں اور جب تک تبلیغ نہ کریں کیسے بڑھ سکتے ہیں۔مسلمانوں نے اگر پہلے نہیں سمجھا تو اب اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ ان کا فرض ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں۔اور دنیا کا کوئی کونہ نہ رہ جائے جس میں پہنچ کر وہ تبلیغ اسلام نہ کر رہے ہوں۔اگر آنحضرت ا ساری دنیا کی اصلاح کی تعلیم لائے تھے۔اور یقینا لائے تھے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس رنگ میں اپنی اصلاح کریں کہ دنیا کے لوگ پکار اٹھیں۔محمد رسول ﷺ کیسے انسان تھے۔جنہوں نے اس قسم کے لوگ پیدا کر دیئے۔مگر افسوس ہے کہ مسلمان اپنی اصلاح کرتے ہیں اور نہ تبلیغ۔یہ زمانہ اسلام پر بہت نازک زمانہ ہے اس میں خصوصیت سے آنحضرت ﷺ پر حملے ہو رہے ہیں۔جس طرح بھی ممکن ہو دشمن آپ کی ہر بات پر اعتراض کر کے اسے بڑی مشکل میں پیش کر رہے ہیں۔رنگیلا رسول کے مصنف کو اگر ۱۸ ماہ کی قید ہو گئی تو کیا۔اور اگر دس سال کی قید ہو جائے تو کیا۔کیا اس سے رسول کریم ا یہ مقام محمود پر کھڑے ہو جائیں گے۔یہ تو ایک سرکاری جج نے فیصلہ کیا ہے کہ رنگیلا رسول کے مصنف کو سزاد یکر ظاہر کیا کہ محمد رسول اللہ ا ان باتوں کے مستحق نہیں جو آپ کے متعلق کسی گئیں۔مگر یاد رکھو رسول کریم انگریزوں کی یا کسی اور کی دی ہوئی تعریف کے ذریعہ مقام محمود نہیں پاسکتے۔سینکڑوں ہزاروں گالیاں دینے اور مذمت کرنے والوں میں سے اگر ایک شخص کو سزا مل گئی تو کیا ہوا۔اس طرح نہ وہ گالیاں دینی چھوڑے گا اور نہ ہی ایسے لوگ پیدا ہونے میں کمی ہوگی۔اس کا تو ایک ہی ذریعہ ہے کہ اگر مسلمان اپنے طریق سے یہ بات ثابت کر دیتے۔اپنے چال چلن سے یہ بات ثابت کر دیتے ہیں۔اپنے تقوی اور دینداری سے یہ بات ثابت کر دیتے کہ وہ متقی اور پرہیز گار ہیں۔وہ دیانتدار ہیں۔محنتی ہیں۔کوشش کرنے والے ہیں اور علوم و فنون میں ترقی کرنے والے ہیں۔تو لوگ خود ہی تعریف کرتے اور خود ہی آنحضرت ا لے کی خوبیاں بیان کرتے۔پھر اگر ہزار رنگیلا بھی نکلتے تو ان کا کوئی اثر نہ