خطبات محمود (جلد 11) — Page 539
خطبات محمود ۵۳۹ سال ۶۱۹۲۸ کو تا ہی ہو جائے تو دوسروں کو سمجھا بھی سکتے ہیں کہ ایسا ہو ہی جاتا ہے۔دوسرے یہ فائدہ ہوگا کہ بعض دفعہ جو بد دیانت لوگ کھانا لے جایا کرتے ہیں وہ نہیں لے جاسکیں گے۔یہاں تو کوئی ایسا بد دیانت یا بھیٹر کے لباس میں بھیڑیا ہو سکتا ہے جو دھوکا دہی سے زیادہ کھانا لے جائے مگر مہمان کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اس کی جگہ ہمیں آدمی کا کھانا لے جائے۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ سارا کام کریں۔کام یہاں کے لوگ ہی کریں لیکن ان کو شامل ضرور کر لیا جائے۔اس پر گو اعتراض بھی ہوتے ہیں کہ ہم جلسہ سننے کے لئے آتے ہیں یا کام کرنے کے لئے لیکن اگر انہیں سمجھایا جائے کہ وہ اتنی قربانی کریں کہ جلسہ سننے کے بعد کام بھی کریں۔آخر کچھ وقت وہ ادھر ادھر پھرنے میں بھی تو صرف کرتے ہیں تو وہ آمادہ ہو سکتے ہیں۔میں نے جس سال ایسا کرنا چاہا پہلے لوگ اس میں شامل نہیں ہوتے تھے لیکن آخر سمجھانے سے وہ اس پر آمادہ ہو گئے۔وہ شاید حضرت خلیفہ اول کا آخری یا اس سے پہلا سال تھا۔اس میں گو وقت بھی ہو گی لیکن اگر دوست سمجھیں اور قربانی کریں اور ایسے دوست ہر سال بدلتے رہیں تو انتظام میں بہت سہولت ہو سکتی ہے۔اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ یہ خیال کر کے کہ میں کفایت و اقتصاد پر بہت زور دے رہا ہوں جلسہ پر لوگوں کو لانے کی تحریک کو ہی بند نہ کر دیں۔کفایت کی تحریک اسی حد تک ہے جہاں تک انتظام کا تعلق ہے۔لوگوں کے آنے کے لحاظ سے تو ہمارا فرض ہے کہ اگر ساری دنیا کو لا سکیں تو لے آئیں۔ہم کو زید یا بکر کے لئے نہیں کھڑا کیا گیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں کسی مخصوص طبقہ کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔بلکہ یہ کہا کہ ”دنیا میں ایک نذیر آیا۔الخ گویا آپ کا پیغام کسی خاص قوم یا ملک سے مخصوص نہیں بلکہ ساری دنیا کے لئے ہے۔پس اگر آسکے تو ساری دنیا بھی آجائے ہم اپنے گھروں میں فاقہ کریں گے اور جو کچھ ہو گا ان کو کھلائیں گے۔اور ہم اسی حد تک مکلف ہیں جہاں تک ہماری وسعت ہے۔اگر اس کے بعد بھی وہ بھوکے رہیں گے تو ہم جواب دہ نہیں ہوں گے بلکہ ہمارا یہی فعل خدا کو پسند ہو گا۔پس دوست کفایت شعاری کے اعلان سے لوگوں کو لانے کی تحریک میں ست نہ ہو جائیں۔ضمنا میں یہ بھی ذکر کر دیتا ہوں کہ اس سال ریل آگئی ہے اور شرح کرامیہ اور ٹائم ٹیبل بھی